شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے قبل ایران نے اپنے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ذریعے ان تک ایک پیغام پہنچایا۔ دمشق میں عباس عراقچی کی بشارالاسد کے ساتھ شائد یہ آخری ملاقات اور آخری عشایہ تھا۔ انہوں نے اس رات صدر کے ساتھ کھانا کھایا اور ایک اہم پیغام پہنچایا۔
عراقچی نے شام کے سابق صدر کو سمجھایا کہ ان کا ملک "اب اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ ان کی حمایت کے لیے فوج بھیج سکے"۔ ایک باخبر ایرانی ذریعے نے ایرانی حکومت کے قریبی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ "بشار الاسد ایک اتحادی سے زیادہ بوجھ بن گیا ہے"۔
ان کا خیال تھا کہ "اسد کی حمایت جاری رکھنے سے ایران کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی"۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ تہران تقریباً ایک سال سے اسد سے مایوس تھا۔
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جب عراقچی نے گذشتہ ہفتے دمشق کا دورہ کیا تو اسد نے انہیں بتایا کہ حلب سے انخلاء حکمت عملی ہے۔ حالات ان کے قابو میں ہیں اور انہیں حمایت کی ضرورت نہیں ہے۔
پاسداران انقلاب کو چھوڑنا
تاہم مسلح دھڑوں نے جلد ہی حمص اور حلب کے بعد حماہ کا کنٹرول سنبھال لیا اور مقامی دھڑوں نے جنوب سے دمشق کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔
اگرچہ ایران نے عوامی طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ شامی حکومت اور فوج کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نے بشارالاسد کو چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔
ذریعے نے تصدیق کی کہ پس پردہ ایرانیوں نے شامی صدر کو چھوڑنا شروع کر دیا، کیونکہ پاسداران انقلاب کے تمام ایلیٹ کے ارکان سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بڑی تعداد میں عراق کی طرف روانہ ہو گئے۔
ترکیہ کا کردار
دوسری طرف ترکیہ نے فوجی سطح پر بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ ترکیہ نےان دھڑوں کی حمایت اور مدد کی جنہوں نے سابق صدر کا تختہ الٹ دیا اور دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا۔
واقعات سے واقف ایک شخص نے وضاحت کی کہ ترک انٹیلی جنس جس نے کئی مسلح دھڑوں کی حمایت کی ہے اور 2016 سے ترک ۔ شامی سرحد کے جنوب میں ایک بڑے علاقے کو کنٹرول کرنے میں ان کی مدد کی ہے۔ اس نے چند روز قبل کیے گئے اچانک حملے کے لیے بھی جنگجوؤں کو مدد فراہم کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترک ڈرونز نے پہلے اپنی آپریشنل وجوہات کی بنا پر دمشق کی جانب سڑک پر موجود فوجی تنصیبات کی تصاویر اور نقشے کھینچے تھے۔ بعد میں انہوں نے دھڑوں کو ان مقامات کی تفصیلی فہرست فراہم کی تھی۔
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ انقرہ نے شامی نیشنل آرمی کے جھنڈے تلے کام کرنے والے کچھ دھڑوں کی حمایت کی جنہوں نے حالیہ عرصے کے دوران ھیۃ تحریر الشام کے ساتھ ہتھیاروں کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کی تھی اور حملے میں مدد فراہم کی تھی۔
ترکیہ نے ضمانتیں حاصل کیں کہ عسکریت پسند امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز ’ایس ڈی ایف‘ میں شامل نہیں ہوں گے، جو شامی علاقے کے بڑے علاقوں پر قابض ہیں۔
روس کے لیے ضمانتیں
جہاں تک روس کا تعلق ہے جس کی افواج مسلح دھڑوں کے خلاف محاذ آرائی میں بہت زیادہ ملوث نہیں تھیں ایسا لگتا ہے کہ اس نے کسی قسم کا معاہدہ کرلیا ہے۔
جب کہ اس نے سابق حکومت کی حمایت کرنے کے عوامی وعدے کیے۔ کریملن کے ایک سابق اہلکار نے انکشاف کیا کہ روس اسد کی مدد کرنے میں بے بس تھے، کیونکہ یوکرین پر اس کے حملے نے روسی افواج کو تھکا دیا تھا۔
دریں اثنا کریملن کے ایک ذریعے نے وضاحت کی کہ مسلح دھڑوں نے شام میں روسی اڈوں اور سفارتی تنصیبات کی حفاظت کی ضمانت دی۔
اس تناظر میں ماسکو میں سابق برطانوی دفاعی اتاشی جان فورمین کا خیال تھا کہ حمیمم میں روس کے فضائی اڈے اور طرطوس میں اس کے بحری اڈے عن قریب قبضے میں آسکتے کیونکہ دھڑے آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اگر روسی ان دونوں اڈوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے تو انہیں وہاں سے جانا پڑے گا"۔
فورمین کے مطابق ان دو اڈوں کے بغیر روس کے لیے نیٹو کی بحریہ کو چیلنج کرنا یا بحیرہ روم اور بحیرہ احمر میں اپنی فضائی افواج کا مقابلہ کرنا اور شمالی اور سب صحارا افریقہ میں اپنی موجودگی کی حمایت کرنا مشکل ہو گا۔