تیونس میں وزارت تعلیم نے ڈیجیٹل تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بعد تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوشش میں سکولوں اور اداروں کے اندر سمارٹ فون لے جانے اور استعمال کرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت کا یہ اقدام ایک استاد کے خود کو جلا کر خودکشی کرنے کے واقعے کے بعد کیا گیا۔ اس استاد کو اپنے طالب علموں کی جانب سے ایک آن لائن غنڈہ گردی کی مہم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ٹیچر کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے سوشل میڈیا سائٹس پر شائع کیا گیا تھا۔
وزارت تعلیم نے اپنے دائرہ اختیار کے تحت علاقائی وفود کو بھیجے گئے ایک میمورنڈم میں سکولوں اور اداروں کے پرنسپلز سے مطالبہ کیا کہ وہ طلبہ اور والدین کو آگاہ کریں کہ کسی بھی وجہ سے تعلیمی ادارے میں سمارٹ موبائل فون لانا ممنوع ہے۔
وزارت نے یہ بھی حکم دیا کہ سکول کی جگہ کے اندر فوٹوگرافی پر سختی سے پابندی عائد کی جائے۔ صرف سکول کے پرنسپل کی اجازت سے ہی فوٹو گرافی کی اجازت دی جائے۔ حال ہی میں تیونس میں تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ کے درمیان موبائل فون، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے بہت زیادہ استعمال کے خلاف انتباہات میں اضافہ ہوا ہے۔
سمارٹ فون غنڈہ گردی کا ایک آلہ اور ورچوئل تشدد کا ذریعہ بن گیا۔ سوشل میڈیا پر اپنے طلبہ کی طرف سے بدمعاشی اور بدسلوکی کی مہم کے سامنے آنے کے بعد اپنی جان کو جلانے والے پروفیسر کے واقعہ نے حکومت کو سکولوں کے اندر سمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی کے فیصلے پر آمادہ کردیا۔