انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایسوسی ایشن فٹ بال (فیفا) نے جانب سے فٹ بال ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی سعودی عرب کو دیے جانے کے اعلان کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔ سعودی عرب واحد میزبان ہوگا جو ورلڈ کپ کے تمام میچز کی مبزبانی کرے گا۔ ورلڈ کپ کے اس ایڈیشن کی میزبانی کا فیصلہ جیانی انفینٹینو کی زیر صدارت فیفا کانگریس کے غیر معمولی اجلاس میں کیا گیا۔
ورلڈ کپ کی میزبانی کے باضابطہ اعلان سے پہلے تمام ممبران کے سامنے مملکت کی فائل کا جائزہ لیا گیا۔ فیفا کے صدر انفینٹینو نے ورلڈ کپ کے اس ورژن کی میزبانی کے لیے سعودی عرب کی بولی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 2034 کا ورلڈ کپ ایک منفرد ورژن ہے۔ یہ بلاشبہ بہت اچھا ہوا ۔ انہوں نے کہا میں تمام فیڈریشنز کی طرف سے اس پر مکمل اتفاق رائے پر خوش ہوں۔
سعودی عرب واحد امیدوار
سعودی عرب نے 27 جولائی کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں امیدواری کی فائل باضابطہ طور پر جمع کرائی اور کسی دوسرے ملک نے ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے درخواست نہیں دی،۔ اس طرح سعودی عرب ورلڈ کپ کی میزبانی کا واحد امیدوار تھا۔ عرب ریاستوں کی لیگ میں مملکت کے مستقل نمائندے سفیر عبدالعزیز بن عبداللہ المطر نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور ’’الحدث ڈاٹ نیٹ‘‘ کو خصوصی بیانات میں کہا کہ کہ 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی میں سعودی عرب کی باضابطہ فتح ایک عالمی اعزاز ہے۔ یہ عالمی کھیلوں کی بھی ایک کامیابی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی ایونٹ فراہم کرنے کی سعودی عرب کی اعلیٰ صلاحیت کی عکاسی کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ٹورنامنٹ کی حیثیت کے مطابق عظیم صلاحیتوں کا حامل ہے۔
تاریخی کامیابی
سفیر المطر نے نشاندہی کی کہ اس بڑے ٹورنامنٹ کی میزبانی میں مملکت کی فتح ایک تاریخی کامیابی ہے جو سعودی عرب کی سرکردہ عالمی پوزیشن اور عالمی برادری کے اس پر اعتماد کی عکاسی کر رہی ہے۔ المطر نے ریاست کی دانش ور قیادت، خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو اس کامیابی پر مبارک باد بھی پیش کی۔ المطر نے کہا کہ یہ تقریب مملکت کے "ویژن 2030" کو مجسم کر رہی ہے جس کا مقصد مختلف شعبوں میں ایک عالمی منزل کے طور پر ملک کے مقام کو بڑھانا ہے۔
کھیلوں میں سعودی قیادت کی دلچسپی
عرب ریاستوں کی لیگ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے نے اپنے بیانات کا اختتام اس بات پر زور دیتے ہوئے کیا کہ مملکت کے لیے یہ تاریخی فتح اس کی قیادت کی کھیلوں میں دلچسپی کی بڑھتی ہوئی سطح کا عملی ترجمہ ہے ۔