شام میں فوجی آپریشن کی کمان سے باہر مسلح دھڑے کام کر رہے ہیں: پیڈرسن
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نے کہا ہے کہ شام میں فوجی آپریشن کی کمان سے باہر مسلح دھڑے کام کر رہے ہیں۔
پیڈرسن نے مزید کہا کہ شام میں استحکام اب بھی نازک دور سے گذر رہا ہے اور بعض علاقوں سے نقل مکانی جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے ایلچی نے زور دیا کہ وہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے مختلف شامی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور شام میں سیاسی منتقلی کے عمل کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن پر قابو پانا ضروری ہے۔
پیڈرسن نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کسی بھی مسلح دھڑے کو شامی ریاست کے فریم ورک سے باہر کام کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی۔ شام میں خاص طور پر حلب میں نئے مسلح تنازعات کے پھوٹ پڑنے کے امکان پر اپنی تشویش ہے۔
گیئر پیڈرسن نے کہا کہ شام میں اسرائیلی حملے سیاسی منتقلی کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل سے شام کے اندر آبادکاری کی سرگرمیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کے ایلچی نے شہریوں کے تحفظ اور شام بھر میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری عمل کا نتیجہ ایک جامع حکومت کی صورت میں نکلنا چاہیے۔
پیڈرسن نے نشاندہی کی کہ شام کے حوالے سے قرارداد 2254 کے اصولوں کی پاسداری کی جانی چاہیے۔ شام کی ترقی کے امکانات کے ساتھ اسی تناظر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شامیوں کو ایک ایسےعبوری عمل کی ضرورت ہے جو ریاستی اداروں کو محفوظ رکھے۔
اقوام متحدہ کے اہلکار نے شمال مشرقی شام میں فوجی کشیدگی کے بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شامیوں نے کسی بھی فوجی کشیدگی کو روکنے کی واضح خواہش کا اظہار کیا ہے۔
پیڈرسن نے منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد پر زور دیا جس میں تمام شامی شامل ہوں، اور شام میں ایک نئے آئین کی تیاری کی ضرورت ہے۔
ایک متعلقہ سیاق و سباق میں اقوام متحدہ نے منگل کوکہا کہ بشار الاسد کی معزولی کے بعد جنوری اور جون 2025ء کے درمیان دس لاکھ شامی مہاجرین اپنے ملک واپس جا سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے دفتر کی ڈائریکٹر ریما جیموس ایمسس نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’اب ہم اگلے سال جنوری اور جون کے درمیان تقریباً 10 لاکھ شامی باشندوں کی واپسی کو دیکھنے کی توقع رکھتے ہیں‘‘۔
میزبان ممالک سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ جنگ زدہ ملک سے فرار ہونے والے لاکھوں شامیوں کی "کوئی زبردستی واپسی نہیں ہونی چاہیے"۔