بنگلہ دیش: بھارت حسینہ واجد کو واپس بھیجے، سابق وزیراعظم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

بنگلہ دیش نے اپنے پڑوسی ملک بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے۔ تاکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جا سکے۔

شیخ حسینہ واجد 5 اگست کو عوامی احتجاج کے نتیجے میں حکومت چھوڑ کر بھارت فرار ہو گئی تھیں ، جہاں انہوں نے سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ہم نے بھارت کو زبانی مطالبہ بھیج دیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم کو واپس بھیجے۔ تاکہ ان کے جرائم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات چلائے جا سکیں۔

بنگلہ دیش کے ترجمان توحید حسین نے رپورٹرز کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس سلسلے میں سفارتی سطح پر خط و کتابت ہو چکی ہے۔

دوسری جانب حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے اس بارے میں فوری طور پر کسی تبصرے سے معذرت کی ہے۔

یاد رہے حسینہ واجد کے تختہ الٹے جانے اور بھارت فرار ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کافی خرابی آچکی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف یہ سوچ نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کا خیرخواہ نہیں بلکہ استحصال کرنے والا پڑوسی ملک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں