بنگلہ دیش نے اپنے پڑوسی ملک بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے۔ تاکہ ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جا سکے۔
شیخ حسینہ واجد 5 اگست کو عوامی احتجاج کے نتیجے میں حکومت چھوڑ کر بھارت فرار ہو گئی تھیں ، جہاں انہوں نے سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ہم نے بھارت کو زبانی مطالبہ بھیج دیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم کو واپس بھیجے۔ تاکہ ان کے جرائم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات چلائے جا سکیں۔
بنگلہ دیش کے ترجمان توحید حسین نے رپورٹرز کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس سلسلے میں سفارتی سطح پر خط و کتابت ہو چکی ہے۔
دوسری جانب حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے اس بارے میں فوری طور پر کسی تبصرے سے معذرت کی ہے۔
یاد رہے حسینہ واجد کے تختہ الٹے جانے اور بھارت فرار ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کافی خرابی آچکی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف یہ سوچ نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کا خیرخواہ نہیں بلکہ استحصال کرنے والا پڑوسی ملک ہے۔
-
بھارتی وزیراعظم سرکاری دورے پر کویت پہنچ گئے
کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ خلیج کا 43 سال میں پہلا دورہ ہے
مشرق وسطی -
بھارت کویت کے ساتھ شراکت داری کو تزویراتی سطح تک بڑھانے کا خواہاں
مودی کا کویت کا دورہ 43 سالوں میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا اپنی نوعیت کا پہلا ...
مشرق وسطی -
یورپی یونین کی پاکستان میں فوجی عدالتوں سے شہریوں کو سزا پر اظہار تشویش
یورپی یونین نے 9 مئی کے مقدمات میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں کے فیصلے پر تشویش ...
پاكستان