امیر کویت الشیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو کویتی عوام کی طرف سے ان کے لیے تعریف اور تشکر کے طور پر "مبارک الکبیر" میڈل عطا کیا۔ اس موقعے پر جمہوریہ ہند اور ریاست کویت کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی مساعی کے حوالے سےایک مختصر بیان میں بھارتی وزیر اعظم نے دو طرفہ تعلقات کو تزویراتی سطح تک بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کویت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات ایک اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ کویت نیوز ایجنسی ’کونا‘ کی طرف سے شائع ہونے والے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات ہیں۔
دونوں ممالک کےخیالات میں ہم آہنگی
اسی تناظر میں وزیراعظم مودی نے اپنے دورہ کویت کے موقعے پر کہا کہ ’’ہمارے تاریخی تعلقات کی مضبوط جڑیں 21ویں صدی میں ہماری شراکت داری کے ثمرات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ کثیر جہتی ترقی کے حصول کے لیے دونوں دوست ممالک کے وژن بہت سے پہلو مشترک ہیں۔ ہمارے تعلقات عمدہ اندازمیں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ تعلقات نئے افق کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہم بے تابی کے ساتھ دفاع، تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تو یہ بے جا نہ ہوگا‘‘۔
پہلا دورہ
مودی کا کویت کا دورہ 43 سالوں میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا اپنی نوعیت کا پہلا دورہ ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ ہمارے تاریخی تعلقات کی مضبوط جڑیں اکیسویں صدی میں ہماری شراکت کے ثمرات کے ساتھ متحرک ہونی چاہئیں۔ ہم نے مل کر بہت کچھ حاصل کیا ہے، لیکن ہماری شراکت داری کے افق لامحدود ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دورہ اسے نئی رفتار دے گا۔"
کویتی ویژن 2035
نریندر مودی نے کویت کے نئے ویژن "2035" اور ملک کو ایک اقتصادی مرکز میں تبدیل کرنے پر اس کی توجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈے سے لے کر سمندری بندرگاہ اور ریلوے لائن تک بنیادی ڈھانچے کے بہت سے منصوبے، قابل تجدید توانائی کے منصوبے اور خصوصی اقتصادیات کے منصوبے روبہ عمل ہیں۔