شام کے عبوری وزیر داخلہ محمد عبدالرحمان نے العربیہ اور الحدث سے گفتگو میں کہا ہے کہ شام کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنا ان کی اولی ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’عوامی سلامتی پر کوئی حملہ یا شہریوں کے مفادات کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی‘۔
انہوں نے کہا کہ "مجرموں اور سکیورٹی میں خلل ڈالنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے شامی عوام کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ مجرموں کا پیچھا کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کے خلاف قانونی اقدامات اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے"۔
محمد عبدالرحمان نے کہا کہ "انصاف ایک مضبوط ریاست کی تعمیر کی بنیاد ہے۔ہم شام کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے یا شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کا احتساب کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ آزاد شام میں آوارہ لوگوں یا مجرموں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ہم وطن اور شہریوں کی سلامتی کے تحفظ کے اپنے عہد پر ہمیشہ قائم رہیں گے"۔
شام کے وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ شام کے ساحل پر ’مجرم حکومت‘ کی باقیات کی طرف سے ہماری افواج پر حملے کے حوالے سے جو کچھ ہوا وہ ہمیں سابق حکومت کے حواریوں کو ختم کر کے آگے بڑھنے کے لیے مزید پرعزم بنا دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے اپنے لوگوں کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور ہم نے ایسے سیٹلمنٹ سینٹرز کھولے جو ہتھیاروں کے حوالے کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ جو لوگ باوقار طریقے سے جینا چاہتے ہیں ان کے لیے دروازہ کھلا ہے، لیکن جو انکار کرے گا اور قانون کے مطابق ہمارا ساتھ نہیں دے گا ہماری افواج شام کے تمام علاقوں میں اس کا تعاقب کریں گی۔