فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی سے 45 مریضوں اور زخمیوں کا علاج کے لیے انخلاء کیا گیا ہے۔
وہ منگل کی صبح جنوبی شہر خان یونس کے یورپیئن ہسپتال سے کریم شالوم راہداری کے راستے اسرائیل پہنچے۔ وہ متحدہ عرب امارات میں علاج کروائیں گے۔
ہسپتال کے مطابق مریضوں کے ساتھ ان کے 100 سے زائد رشتہ دار بھی ہیں۔
ان میں ایک 10 سالہ لڑکا عبداللہ ابو یوسف بھی ہے جس کے گردے فیل ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اس کی والدہ کی ساتھ جانے کی درخواست مسترد کر دی جس کے بعد بچہ کے ساتھ اس کی بہن روانہ ہوئی۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ سکیورٹی کے لیے ہمراہ جانے والوں کی سکریننگ کرتا ہے۔
بچے کی ماں عبیر ابو یوسف نے کہا، "لڑکا بیمار ہے۔ اسے ہفتے میں تین سے چار دن ہیموڈالیسس کی ضرورت ہوتی ہے۔"
وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ غزہ میں کئی ہزار فلسطینیوں کو بیرونِ ملک علاج کی ضرورت ہے۔
مئی میں جنوبی شہر رفح پر قبضہ کرنے کے بعد سے اسرائیل نے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹرول کر رکھا ہے۔ اسرائیلی حملوں سے علاقے میں نظامِ صحت تباہ ہو چکا ہے اور اس کے بیشتر ہسپتال بند ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جو کھلے ہیں، وہ صرف جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔