پابندی کے اسرائیلی فیصلے کے نفاذ سے قبل ’انروا‘ کا ریلیف آپریشن معطل ہونے کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ’انروا‘نے اتوار کے روز خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی پابندی کے فیصلے سےاس کی کارروائیاں مفلوج ہو سکتی ہیں۔ ’انروا‘ کی طرف سےیہ وارننگ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب اسرائیل کا جنوری کے آخر میں نافذ العمل ہونے کے قریب ہے۔

’انروا‘ نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ "ایجنسی پر ممکنہ پابندی کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ جس سے لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو خدمات فراہم کرنے کا عمل معطل ہوسکتا ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ "ایجنسی کو تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ اس پر پابندی لگانے کے اپنے فیصلے کو واپس لینا چاہیے"۔

قابل ذکر ہے کہ 28 اکتوبر 2024ء کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے دو قوانین کی منظوری دی۔ پہلے’انروا‘ کو اسرائیل میں کام کرنے سے روکنے سے متعلق ہے اور یہ تین ماہ کے اندر نافذ ہونے والا ہے، جب کہ دوسرا اقوام متحدہ کی ایجنسی کے ساتھ تمام اسرائیلی معاملات اورمعاہدات کو ختم کرنا ہے جن پرنوں فریقوں نے دستخط کیے تھے۔

اقوام متحدہ نے ان قوانین کو اپنانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ’انروا‘ کو اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔

غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر 2023ء کوجنوبی اسرائیل پر حماس کی طرف سے کیے گئے ایک غیر معمولی حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمارکے مطابق 1,208 افراد ہلاک ہوئے۔

حملے کے دوران 251 افراد کو اغوا کیا گیا جن میں سے 96 اب بھی غزہ میں قید ہیں، جن میں سے 34 کو اسرائیلی فوج نے مردہ قرار دیا ہے۔

غزہ میں وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں کم از کم 45,717 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر شہری خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں