یورپی یونین کے رکن چھ ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ وہ شام پر عائد کردہ یورپی پابندیوں کو عارضی طور پر معطل کرنے اور ان میں نرمی لانے کا مطالبہ کریں گے۔
یہ معاملہ امکانی طور پر 27 جنوری کو برسلز میں یورپی یونین اجلاس میں زیر بحث آئے گا۔ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا گیا ہے۔
یورپی یونین کے ارکان نے بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام میں 'ھیتہ التحریر الشام ' کے بارے میں اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
واضح رہے امریکہ، یورپی یونین اور ان کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے بھی اسے دہشت گروپوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ تاہم ان سبھوں نے بشار رجیم کے خاتمے کے بعد افغان طالبان کے مقابلے میں 'ھیتہ التحریر الشام' کے ساتھ سرعت کے ساتھ رابطے کیے ہیں اور اس کی پالیسیوں اور اقدامات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے شام پر پابندیوں کے مستقبل اور اس گروپ کے بارے میں حکمت عملی اختیار کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
پیر کے روز جن چھ ملکوں کی طرف سے پابندیوں کو عارضی طور معطل کرنے کے مطالبے کا عندیہ دیا ہے ان میں فرانس، جرمنی، ڈنمارک، سپین ، فن لینڈ اور ہالینڈ شامل ہیں۔ ان سب ملکوں نے اس سلسلے میں ایک دستاویز پر بھی دستخط کیے ہیں۔
مگر اس دستاویز میں ساتھ ہی یہ انتباہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ اگر 'ھیتہ التحریر الشام' کی حکومت میں اقلیتوں، انسانی حقوق وغیرہ سے متعلق یورپی برادری کی توقعات پوری نہ کی گئیں تو شام پر ایک بار پھر پابندیاں لگا دی جائیں گی۔ جبکہ نرم کی گئی پابندیاں بھی دوبارہ لگادی جائیں گی۔
بتایا گیا ہے کہ عارضی طور پر پابندیاں اٹھائے جانے سے مسافر پروازوں کی بحالی، قیمتی اشیاء کی تجارت پر پابندی کا خاتمہ، تیل اور گیس کی برآمد سے متعلق ٹیکنالوجی پر عائد پابندی کے خاتمے کے علاوہ یورپی یونین اور شام کے درمیان اقتصادی چینلز کی بحالی شامل ہو گی۔
یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کاجاکالاس نے کہا ہے کہ اس امر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ شام کی 'ھیتہ التحریر الشام' کی قیادت چیزوں کو کس طرح لے کر چلتی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کس طرح کرتی ہے اور تمام طبقات کو کیسے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ ان معاملات کا ہم جائزہ لے کر اگلے فیصلے کریں گے اور یورپی یونین کے آئندہ اجلاس میں اس پر تفصیلی بحث ہوگی۔'
یاد رہے سعودی عرب کی میزبانی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک اور یورپی یونین کے ارکان کا ایک اعلیٰ سفارتی اجلاس دو روز پہلے دارالحکومت ریاض میں سعودی میزبانی میں ہو چکا ہے۔ جس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مطالبہ کیا کہ شام پر عائد کی گئی پابندیاں ختم کی جائیں ۔ تاکہ شام کے معاشی مسائل کا خاتمہ ممکن ہوسکے اور شامی عوام آگے بڑھ سکے۔
-
مسلح گروپوں کے ذریعے شام کی تعمیر ممکن نہیں : احمد الشرع
شام میں نئی قیادت کے سربراہ احمد الشرع نے ایک بار پھر ریاست کی تعمیر اور مسلح ...
بين الاقوامى -
روبوٹ لیور ٹرانسپلانٹیشن پر سعودی تحقیقی مرکز کا مقالہ 10 بااثر مقالوں میں شامل
امریکن سوسائٹی فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن نے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر ...
مشرق وسطی -
’شام پر یورپی پابندیوں میں جلد نرمی ہوگی مگر خطرے کی تلوار کھینچی رہے گی‘
یورپی یونین کے اعلان کے بعد کہ وہ جنوری کے آخر میں برسلز میں ہونے والے اجلاس میں ...
مشرق وسطی