کیلیفورنیا : گھر خاکستر ہو کر غائب ، آگ سے پہلے اور بعد کی تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں گذشتہ منگل کو بھڑکنے والی خوف ناک آگ کا دائرہ وسیع ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہوا کے تیز ہونے کے سبب صورت حال مزید ابتر ہونے کی توقع ہے۔

سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر نے شہر میں اس آگ کے بھڑکنے سے پہلے اور بعد کے مناظر محفوظ کر لیے ہیں۔ آگ نے پر تعیش مہنگے ترین گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر راکھ بنا دیا۔

سیٹلائٹ کمپنی Maxar Technologies نے لاس اینجلس میں کئی علاقوں کی تصاویر آگ لگنے سے پہلے اور اس کے بعد لے کر ان کا موازنہ کیا ہے۔

کیلیفورنیا ریاست میں ایلٹاڈینا میں آگ سے پہلے 6 جنوری کو گھروں کی تصاویر کے ساتھ پھر 10 جنوری کو آگ کے بعد دوسری تصویر جاری کی گئی ہے۔ دونوں تصاویر دیکھ کر تباہی کے حجم کا واضح طور اندازہ ہو جاتا ہے۔ آگ سے اربوں امریکی ڈالر کا نقصان متوقع ہے۔ ابھی تک اس خوف ناک آگ کے نتیجے میں 24 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

اسی طرح میکسر کمپنی نے ایلٹاڈینا میں ایٹون کے علاقے کی چھ جنوری کی (آگ سے قبل) تصاویر اور پھر آگ لگنے کے بعد آٹھ جنوری کی تصاویر جاری کی ہیں۔
کیلیفورنیا آبادی کے لحاظ سے امریکا کی سب سے بڑی ریاست ہے۔

لاس اینجلس
لاس اینجلس

حکام نے علاقے میں سخت کرفیو نافذ کر دیا ہے جو شام چھ بجے سے صبح چھ بجے تک نافذ ہوا کرے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب متاثرہ علاقوں یا آبادی سے خالی کرائے گئے علاقوں میں لوٹ مار کی کارروائیاں پھیل جانے کی اطلاعات ہیں۔

توقع ہے کہ اس آفت کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا نقصان ہو گا۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ یہ آگ موجودہ ریکارڈ کیے گئے خسارے سے زیادہ حجم والی ہو گی۔
لوٹ مار سے ہٹ کر ایک اور مسئلہ سامنے آ رہا ہے اور وہ ہے کرایوں میں اضافے کا، اس نے حکام کو کرایوں میں بے پناہ اضافہ روکنے کے لیے متحرک کر دیا ہے جس کا بے گھر افراد کو سامنا ہے۔

لاس اینجلس
لاس اینجلس

کیلیفورنیا ریاست کے پبلک پراسیکیوٹر نے دو روز پہلے یاد دہانی کرائی تھی کہ قیمتوں میں اضافے پر ایک برس قید اور 10 ہزار ڈالر جرمانے تک کی سزا ہو گی۔
یاد رہے کہ اس وقت چلنے والی ہوائیں Santa Ana کے نام سے معروف ہیں۔ یہ کیلیفورنیا میں موسم خزاں اور موسم سرما میں چلتی ہیں۔

تاہم رواں ہفتے ان ہواؤں کی غیر معمولی رفتار 160 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی جو 2011 کے بعد تیز ترین رفتار ہے۔ یہ بات موسمیات کے ماہرین نے بتائی ۔
ان تند و تیز ہواؤں نے آگ بجھانے والے کارکنان کے لیے بھیانک صورت حال پیدا کر دی۔ اس لیے کہ کیلیفورنیا میں گذشتہ دو برس بھرپور بارش والے گزرے جن سے پودوں کی افزائش کافی زیادہ ہو گئی۔ یہ اب خشک ہو چکی ہیں کیوں کہ علاقے میں خشک موسم دیکھا جا رہا ہے۔

بہت سے سائنس دان باقاعدگی سے اس بات کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی ... موسم کی انتہائی صورت حال کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں