امریکا میں چند سری حکومت تشکیل پا رہی ہے : بائیڈن کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر جو بائیڈن نے جن کی مدت صدارت اختتام پر ہے، جمعرات کے روز الوداعی خطاب میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اختیارات انتہائی دولت مند افراد کی قلیل تعداد کے ہاتھ میں اکٹھا ہو رہے ہیں۔

بائیڈن نے واضح کیا کہ "ہم ٹیکنالوجی، اقتدار اور دولت چند ہاتھوں میں اکٹھا ہونے میں خطرات دیکھ رہے ہیں"۔

صدر نے مزید کہا کہ "آج امریکا میں بے پناہ دولت، طاقت اور اثر و رسوخ سے چند سری حکومت تشکیل پا رہی ہے جو ہماری پوری جمہوریت، ہمارے بنیادی حقوق اور آزادی اور تمام لوگوں کے آگے بڑھنے کے منصفانہ موقع کے لیے خطرہ ہے۔ اقتدار چند انتہائی دولت مند ہاتھوں میں جمع ہو رہا ہے، اگر اختیارات کا غلط استعمال نہ روکا گیا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے"۔

بائیڈن کے مطابق وہ امریکا میں اقتدار کی پر امن منتقلی کے خواہش مند تھے۔

وائٹ ہاؤس میں الوداعی خطاب میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ "امریکی شہری اس وقت گمراہ کن خبروں کے سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں، یہ صورت حال اقتدار کے غلط استعمال کو جنم دے سکتی ہے"۔

جو بائیڈن نے کہا کہ امریکی آئین میں ترمیم کی جائے تا کہ کوئی بھی صدر منصب پر رہتے ہوئے مرتکب جرائم سے استثنا حاصل نہ کر سکے۔

بائیڈن نے اقتدار حوالے کرنے سے 5 روز قبل اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے حکم جاری کیا جس کی رو سے قبرص کو امریکی حکومت سے اسلحہ خریدنے اور امریکی اضافی عسکری ساز و سامان حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔

امریکا نے 2020 میں قبرص پر کئی دہائیوں سے عائد ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق پابندی اٹھا لی تھی۔ قبرص حکومت اس اقدام کو خطے میں امریکا کے شراکت دار تسلیم کرنے کے حوالے سے دیکھتی ہے۔

قبرص نے حال ہی میں قائم کی گئی سمندری گزر گاہ کے راستے جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد پہنچانے میں حصہ لیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں قبرص اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بڑی حد تک بہتری آئی ہے۔ بالخصوص 2023 میں قبرص میں نیکوس خرستودولیس کے صدر منتخب ہونے کے بعد، جنھوں نے مغرب کی حمایت پر مبنی قبرص کے موقف کو باور کرایا۔ وہ امریکا کے ساتھ وسیع دفاعی تعلقات کے بھی حامی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں