امریکی صدر جو بائیڈن سے ایک پریس کانفرنس کے دوران میں جب یہ پوچھا گیا کہ فائر بندی معاہدے کا سہرا کس کے سر جاتا ہے "آپ کے یا ٹرمپ کے؟" ... تو انھوں نے طنزیہ انداز میں جواب دیا "کیا یہ مذاق ہے".
امریکی صدر نے بدھ کے روز غزہ معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غزہ میں فائر بندی کا معاہدہ میری انتظامیہ کے دوران میں تیار کیا گیا البتہ منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس کی شرائط کو نافذ کرائے گی۔
@alarabiya من له الفضل في اتفاق وقف إطلاق النار، أنت أم ترمب؟ بايدن: "هل هذه مزحة" #العربية ♬ الصوت الأصلي - العربية
بائیڈن کے مطابق اسرائیل اور حماس فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچ گئے جس کا مقصد غزہ میں لڑائی کا خاتمہ اور فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی امداد میں اضافہ ہے۔
دوسری جانب منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام اعلان کیا کہ غزہ میں یرغمالیوں کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔
انھوں نے Truth Social پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "ہم مشرق وسطیٰ میں یرغمالیوں کے حوالے سے ایک معاہدے تک پہنچ گئے ہیں"۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ "ان کو جلد آزاد کر دیا جائے گا ... آپ لوگوں کا شکریہ" !
بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں منتخب امریکی صدر نے لکھا کہ "فائر بندی کا یہ معاہدہ نومبر میں ہماری تاریخی کامیابی کا نتیجہ ہے، اس نے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ میری انتظامیہ امن اور سمجھوتوں کے لیے مذاکرات کی کوشش کرے گی تا کہ تمام امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ میں امریکی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی اپنے گھروں کو واپسی پر بہت مسرور ہوں کہ یہ لوگ اپنے گھر والوں اور پیاروں سے مل سکیں گے"۔