بھارت میں 'کمبھ میلے' کی تیاریاں مکمل ، کروڑوں ہندوؤں کی شرکت کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بھارت میں ہجوموں کے انتظامات سے متعلق اداروں نے آنے والے دنوں میں 'کمبھ میلے' کی تیاریوں کے سلسلے میں مصنوعی ذہانت کو بھی بروئے کار لانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ تاکہ بھگدڑ سے ہونے والے حادثات سے بچا جا سکے۔

'کمبھ میلے' کے منتظمین نے پیش گوئی کی ہے کہ اس میں 400 ملین ہندو یاتری شرکت کریں گے۔ یہ میلہ پیر کے روز سے شروع ہوگا اور مسلسل ڈیڑھ ماہ تک جاری رہے گا۔

بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والے انسانی اجتماعات میں یہ طویل ترین اجتماع ہے۔

تاہم ماضی میں یہ بہت بڑی بدانتظامی اور بھگدڑ مچنے کے بعد بڑی تعداد میں یاتریوں کی ہلاکتوں کا باعث بنتا رہا ہے۔ اس وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کا ایک دوسرے کے پاؤں تلے روندے جانا اس مذہبی میلے کی بری شناخت بن کر رہ گیا ہے۔

'کمبھ میلے' کے سلسلے میں انتظامات سے متعلق پولیس افسر امیت کمار نے 'اے ایف پی' کو بتایا 'ہماری خواہش ہے کہ اس بڑے ہندو میلے میں شرکت کے بعد بھی ہر شخص اپنے گھروں کو محفوظ واپس جا سکے۔ اس لیے ہم ٹیکنالوجی کی مدد بھی لے رہے ہیں۔ تاکہ لوگوں کے ہجوم کو ایک خاص حد سے زیادہ بڑھ کر حساس معاملہ نہ بننے دیا جائے۔'

یاد رہے 'کمبھ میلے' میں ایک دن کے دوران مرنے والے ہندوؤں کی سب سے زیادہ تعداد 400 ہے۔ تاہم انتظامی اعتبار سے بہتر بندوبست کے ساتھ اس تعداد میں کمی کر لی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق 'کمبھ میلے' کے راستوں اور میلے کی جگہ پر 300 کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ جبکہ ڈرون کیمروں سے بھی میلے کی نگرانی کی جائے گی۔

گنگا اور جمنا دریاؤں کے سنگم پر سجائے جانے والے اس میلے سے دور پولیس کے افسران اور ماہرین شیشے سے بنے کنٹرول روم میں اپنی ایک چھوٹی ٹیم کے ساتھ میلے کی نگرانی کریں گے۔

امیت کمار نے کہا ' ہم اس کنٹرول روم سے پورے 'کمبھ میلے' کو دیکھ سکیں گے اور اس فوٹیج کو مصنوعی ذہانت کے 'ایلگوردھم' کے تحت ہر سمت سے دیکھا بھی جاسکے گا۔ اس ڈیٹا کو ریلوے اور دوسرے ٹرانسپورٹ کے محکموں کے ساتھ ملا کر بھی جانچا جائے گا کہ یہ کس قدر صحیح ہے۔'

پولیس افسر کے مطابق 'کمبھ میلے' کے لیے آنے والے ہندوؤں کے بہاؤ کو مصنوعی ذہانت سے دیکھا جائے گا اور میلے کے داخلی راستوں پرپیش آنے والی صورتحال پر بھی نظر رکھے جائے گی۔ ہمیں امید ہے کہ جب لوگوں کی زیادہ تعداد اکٹھے ہوجائے گی تو مصنوعی ذہانت کی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہو جائے گی۔

واضح رہے 'کمبھ میلہ' ہندوتوا کا ایک اہم مذہبی سلسلہ ہے۔ جو برسہا برس سے چلا آرہا ہے۔ اس میلے کے دوران 60 لاکھ ہندو دریا میں پہلے روز ڈبکیاں لگائیں گے۔

بھارت ہندو اکثریت کا ملک ہے۔ جہاں پر ہندوؤں کے لیے آزادی اور سہولت کا اہتمام حکومتی سطح پر کیا جاتا ہے۔ البتہ دوسری اقلیتوں کو اس بڑی ہندو اکثریت سے بالعموم شکایات رہتی ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے حکومتی عناصر میں بھی ہندو مذہبیت کے اثرات غالب ہیں۔ جو بھارت کے سیکولر چہرے کو تبدیل کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں اترپریدش کے وزیر اعلیٰ یوگی خود بھی ایک انتہائی کٹر ہندو مذہبی شخصیت ہونے کے ناطے اس میلے کے آرگنائزرز میں بھی شامل ہیں اور وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے بھی انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ بھارتی ریاستوں کے موجودہ وزرائے اعلیٰ میں سے سب سے زیادہ سخت گیر وزیر اعلیٰ سمجھے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں