ٹک ٹاک کی طرز پر 'بُک ٹاک' پلیٹ فارم: نوجوان سعودیوں کے لیے کتاب بینی کا ایک نیا تصور

ایپ پر کتابوں کی مقبولیت پڑھنے کے ساتھ ساتھ اشاعت کے رجحان میں اضافے کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تیز رفتار اور مختصر مواد کی وجہ سے توجہ کا دورانیہ کم کر دینے پر ٹک ٹاک کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اس کی "بُک ٹوک" کمیونٹی کا معاملہ مختلف ہے جس نے سعودی عرب اور اس سے باہر کے نوجوان افراد میں پڑھنے میں نئی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی "بیسٹ سیلر مشین" قرار دیا جانے والا بک ٹاک ایک عالمی رجحان بن گیا ہے۔

یہ پلیٹ فارم ایک ورچوئل بُک کلب کے طور پر ابھرا ہے جہاں قارئین سفارشات کا اشتراک کرنے اور اپنے پسندیدہ عنوانات خاص طور پر رومانوی، فکشن اور سنسنی خیزی کی انواع کے بارے میں بات کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔

عرب نیوز نے متعدد مصنفین اور مواد کے تخلیق کاروں سے بات کی جنہوں نے بتایا کہ کس طرح سوشل میڈیا کا رجحان کتابوں کی فروخت کو بڑھا رہا ہے اور مقامی اشاعتی صنعت کو نئی شکل دے رہا ہے۔

محمد الاشعری ایک نوجوان قاری ہیں جو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر باقاعدگی سے کتاب کی سفارشات اور مباحثوں کا اشتراک کرتے ہیں۔

پلیٹ فارم کے تیز رفتار طریقے کی بنا پر جمالیاتی لحاظ سے خوش کن مواد کو ترجیح دی جاتی ہے جو بائٹ سائز کے کلپس میں اپ لوڈ کیا جا سکے اور الاشعری نے بتایا کہ یہ الگورتھم کیسے پڑھنے کی عادات کو بدل رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "بُک ٹاک نے لوگوں کے ناول پڑھنے کے طریقے میں اہم تبدیلیاں کی ہیں کیونکہ بک ٹاک کمیونٹی میں پڑھنے کے رجحانات مسلسل ترقی پا رہے ہیں اور ہر رجحان کے ساتھ پڑھنے کا ایک نیا طریقہ یا عادت سامنے آتی ہے۔"

الاشعری نے وضاحت کی، یہ اثر صرف پلیٹ فارم پر موجود قارئین تک ہی محدود نہیں بلکہ مصنفین بھی اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ یہ اس پر اثر انداز ہوتا ہے کہ وہ اپنی تحریر تک کیسے پہنچتے ہیں اور پلیٹ فارم کی فعال کمیونٹی کے ذوق اور دلچسپیوں کے مطابق اپنے کام کو کیسے ڈھالتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، بک ٹاک پر سب سے زیادہ رجحان ساز انواع افسانہ، سائنس فکشن اور ہارر ہیں: "سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی کتابیں انہی انواع میں سے ہوتی ہیں جس کی وجہ سے کئی مصنفین نے مقبول تحریری انواع پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔"

یہ اثر خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ اس نے کتاب کی فروخت کو کیسے متأثر کیا ہے۔

امریکہ میں قائم ریٹیل ٹریکنگ سروس سرکانا کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹک ٹاک نے امریکہ میں خاص طور پر بالغان کے افسانوں کے زمرے میں کتابوں کی فروخت کو نمایاں طور پر متأثر کیا ہے۔

دیگر انواع مثلاً ڈسٹوپیئن، رومانس اور تھرلر میں بھی 2022 اور 2023 کے دوران قابلِ ذکر اضافہ ہوا۔

"بیونڈ دی سرفیس" کی سعودی مصنفہ یاسمینہ المطبقانی نے کہا، بک ٹاک نے ان کے تازہ ترین ناول کی فروخت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس میں دو اجنبیوں کی کہانی دریافت کی گئی ہے جن کا وبائی امراض کے دوران ایک غیر متوقع تعلق قائم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، "میں نے اپنی کتاب کے بارے میں ایک ویڈیو پر متعدد بار بامعاوضہ اشتہارات شائع کیے ہیں۔ البتہ اس وقت میں نے نہیں سوچا تھا کہ یہ اتنا مؤثر ثابت ہوگا۔ تھوڑی عرصے بعد میں جریر بک سٹور پر گئی اور اس آدمی نے مجھے بتایا کہ یہ ناول متعدد شاخوں میں سارا کا سارا فروخت ہو چکا تھا۔"

المطبقانی نے ادبی دنیا پر بک ٹاک کے وسیع تر اثر کو نمایاں کیا اور کہا، اس کا ادب اور اشاعت پر مثبت اثر ہوتا ہے کیونکہ بک ٹاک عمومی تحریر اور اس بارے میں مشورہ دیتا ہے کہ آپ اپنی کتاب کیسے شائع کریں، کوئی ادبی ایجنٹ کیسے تلاش کیا جائے اور اگر آپ مصنف ہیں تو یہ آپ کی کتاب کو فروغ دینے میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں