دار فور خانہ جنگی کا جہنم 20 برس بعد دوبارہ بڑھکایا گیا ہے: پراسیکیوٹر عالمی فوجداری عدالت

یہ غیر مصدقہ معلومات پر مبنی تشخیص نہیں ہے، یہ میرے دفتر کی طرف سے جمع کردہ اور تصدیق شدہ ثبوتوں پر مبنی ایک تفصیلی تجزیہ ہے: کریم خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے کہا ہے کی کہ سوڈانیوں کی ایک نئی نسل دارفور میں ایسے "جہنم" کا شکار ہے جیسا کہ اس صدی کے اوائل میں خانہ جنگی کے دوران ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب وہ وارنٹ گرفتاری کی درخواست کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

کریم خان، جو ہر چھ ماہ بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے سوڈان کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں، نے کہا ہے کہ یہ میرے دفتر کے لیے واضح ہے کہ دارفور میں بین الاقوامی جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ یہ غیر مصدقہ معلومات پر مبنی تشخیص نہیں ہے۔ یہ میرے دفتر کی طرف سے کیا گیا ایک تفصیلی تجزیہ ہے جو جمع اور تصدیق شدہ شواہد اور معلومات پر مبنی ہے۔

اس تناظر میں انہوں نے مزید کہا کہ میں آج تصدیق کر سکتا ہوں کہ میرا دفتر ان جرائم کے سلسلے میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے جن کا ارتکاب ہمارے خیال میں مغربی دارفور میں کیا جا رہا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر نے قحط، بچوں کو نشانہ بنانے اور لڑکیوں اور خواتین کی عصمت دری پر توجہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ چھ ماہ قبل جاری ہونے والی ان کی آخری رپورٹ کے بعد سے سوڈان میں تکلیف اور مصائب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مصائب اس بات کی "عکاسی" کر رہی ہیں جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 20 سال قبل اس کیس کو عدالت میں بھیجا تھا۔ ویسے ہی مجرم ماڈلز اور ویسے ہی ٹارگٹ گروپس ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک نئی نسل اسی جہنم میں مبتلا ہے جس کا سامنا دارفور میں نسلیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے ماضی اور حال کے درمیان اس المناک اور قابل گریز تعلق پر افسوس کا اظہار کیا۔

2023 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اس خطے میں جنگی جرائم کی ایک نئی تحقیقات کا آغاز کیا۔ یہ جرائم سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان تقریباً دو سال قبل شروع ہونے والے نئے تنازع کے بعد شروع ہوئے۔ 2005 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خانہ جنگی کے مسئلے کا حوالہ دیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ اس صدی کے آغاز میں تقریباً 300,000 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں