لبنانی وزارت صحت نے منگل کے روز بتایا کہ ملک کے جنوب میں النبطیہ کے علاقے پر اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 24 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ کارروائی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کی 18 فروری تک توسیع کے دو روز بعد کیے گئے ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ڈرون طیارے نے منگل کی شام ساڑھے سات بجے کے قریب سبزیوں کے ایک چھوٹے ٹرک کو راکٹ کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس کے طیاروں نے حزب اللہ تنظیم کے ایک ٹرک اور ایک چھوٹی لاری کو حملے کا نشانہ بنایا جو لڑائی کا ساز و سامان لے کر جنوبی لبنان کی سمت جا رہے تھے۔
العربیہ نیوز کی معلومات کے مطابق اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے زیر انتظام ایک راکٹ لانچر اور ہتھیاروں کے ایک گودام کو نشانہ بنایا۔
لبنان میں عبوری حکومت کے سربراہ نجیب میقاتی نے اسرائیل کے دونوں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لبنانی خود مختاری کی اضافی خلاف ورزی ، فائر بندی کی کھلی خلاف ورزی اور سلامتی کونسل کی قرار داد 1701 کے مندرجات کی پامالی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان فائر بندی معاہدے کی ساٹھ روز کی مہلت ختم ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان میں النبطیہ الفوقا کے علاقے پر حملہ کیا۔
اس سے قبل منگل کے روز لبنانی فوج کی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فوجی یونٹوں کو جنوبی لبنان کی وسطی پٹی میں یارون قصبے ، وسطی پٹی میں مروحین اور بلدہ ریشا قصبوں اور جنوبی لیطانی کے علاقے میں دیگر سرحدی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت وہاں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد فائر بندی معاہدے کی نگراں پانچ کرنی کمیٹی کے ساتھ رابطہ کاری سے سامنے آئی ہے۔
منگل کی شام ایک دوسرے بیان میں لبنانی فوج کی قیادت نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں یارون سے مارون الراس جانے والے راستے پر لبنانی فوجیوں اور شہریوں کی جانب فائرنگ کر دی۔ اس کے نتیجے میں ایک فوجی اور تین شہری زخمی ہو گئے۔
لبنانی شہری گذشتہ اتوار سے واپسی کے لیے جنوبی حصے میں اپنے دیہات کا رخ کر رہے ہیں۔ اس دوران میں اسرائیلی فوج نے اپنے قصبوں میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے لبنانی شہریوں پر فائرنگ کی۔ اس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کا اعلان 26 نومبر کو کیا گیا تھا۔ اس کے اگلے روز علی الصبح جنگ بندی کا نفاذ ہو گیا۔
فائر بندی معاہدے میں یہ ذکر ہے کہ لبنانی فوج اور لبنانی سکیورٹی فورسز جنوبی لبنان کے علاقے میں تعینات ہوں گی جب کہ اسرائیل اپنی فوج کو 60 دنوں کے اندر بتدریج جنوبی لبنان سے بلیو لائن (سرحدی خط) کی طرف واپس لے جائے گا۔ تاہم اسرائیلی فوج ابھی تک جنوبی لبنان کے بعض سرحدی دیہات میں موجود ہے۔
لبنانی حکومت 18 فروری تک جنگ بندی کے معاہدے کے تحت عمل جاری رکھنے پر آمادہ ہو چکی ہے۔