12 دن گزر گئے، غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کیا کام باقی رہ گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے لیے مخصوص 42 دن کی مدت میں سے 12 دن گزر چکے اور 30 دن باقی ہیں۔ اسرائیل اور حماس نے متعدد قیدیوں کا تبادلہ کرلیا ہے۔ غزہ کی پٹی کے مکین شمالی غزہ کی طرف بھی واپس لوٹ گئے ہیں۔ یرغمالیوں کی سطح پر 26 اسرائیلی زیر حراست ہیں جن میں 8 لاشیں بھی شامل ہیں۔ جہاں تک فلسطینی قیدیوں کا تعلق ہے تقریبا 1,590 قیدی رہا ہونا باقی ہیں۔ ان کو پہلے مرحلے کے بقیہ ہفتوں میں رہا کر دیا جائے گا۔ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت تین مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا پہلا مرحلہ چھ ہفتے تک جاری رہے گا جس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی واپسی ہوگی جس کے بدلے میں تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے کے روز حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تبادلے کے معاہدے کے دوسرے حصے کے طور پر چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کو رہا کیا تھا۔ اس سے پہلے کے ہفتے میں حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید 90 فلسطینیوں کے بدلے تین خواتین اسیران کو رہا کیا۔ پہلے مرحلے کے تحت غزہ میں باقی ماندہ اسرائلیلی یرغمالیوں کی تعداد 26 تک پہنچ گئی ہے جنہیں رہا کیا جانا ہے۔ اسرائیلی زیر حراست افراد کے ناموں کی فہرست دی گئی لیکن ان کی رہائی کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں بتایا گیا ہے۔

حماس کے 250 قیدی

19 جنوری کو جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اسرائیلی جیلوں میں نظر بند 290 فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے تین خواتین شہریوں اور چار خواتین فوجیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ 2023 میں حماس کے حملے کے دوران 250 سے زیادہ اسرائیلیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے تقریباً نصف کو جنگ کے آغاز کے بعد ایک مختصر جنگ بندی کے دوران رہا کردیا گیا تھا۔ واضح رہے اسرائیل اور حماس نے چند روز قبل غزہ میں قیدیوں تبادلے کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے بات چیت شروع کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں