بنگلہ دیش پولیس نے پیر کے روز جلا وطن وزیر اعظم حسینہ واجد کے 1300 سے زائد حامیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں عوامی لیگ کے کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران کی گئی ہیں۔
پولیس نے یہ آپریشن 'ڈیول ہنٹنگ' کے نام سے شروع کیا۔ تاکہ شر پسندوں کو گرفتار کر کے امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے سے روکا جا سکے۔ حسینہ واجد کی حکومت عوامی احتجاج کے بعد اس وقت خاتمے سے دوچار ہوگئی جب انہیں پچھلے سال جولائی میں ملک میں میرٹ پر ملازمتیں دینے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے مظاہروں پر گولیاں چلوا کر 1000 سے زائد نوجوانوں کو مروا دیا تھا۔
بعد ازاں مظاہرین کی تعداد بڑھتی گئی اور 5 اگست 2024 کو ملک کی فوج نے مزید مظاہرین پر گولی چلانے اور مزید جانیں لینے سے انکار کر دیا جبکہ حسینہ واجد چھپ کر بھارت پہنچ گئیں۔ وہ تب سے بھارت میں جلاوطنی کاٹ رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں وزیر داخلہ جہانگیر عالم چودھری نے کہا ہے کہ شر پسندوں اور شیطانوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔
بنگلہ دیشی پولیس کے ترجمان انعام الحق صاغر نے کہا 'شرپسنوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔ تاہم ہفتہ کے روز سے شروع کیے گئے اس آپریشن میں اب تک 1308 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔'
خیال رہے جاری آپریشن کا آغاز رواں مہینے کے شروع میں ہوا تھا۔ جب 5 فروری 2023 کو سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کے والد کے گھر پر مظاہرین نے حسینہ واجد کی تقریر کے خلاف مظاہرہ کیا۔
جمعہ کے روز بنگلہ دیش کے عبوری وزیراعظم محمد یونس نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ وزیراعظم کے پریس ایڈوائزر شفیق عالم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا 'کمانڈ سینٹر ٹیم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی نگرانی کا کام کرے گی۔'
تاہم سپریم کورٹ کے وکیل سنیہادری چکروتی نے کہا 'یہ ایک 'آئی واش' ہے۔ اس سے بنیادی مسائل کے خاتمے کے بجائے معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ میرا نہیں خیال اس قسم کی کارروائیوں سے امن و امان کی صورتحال میں کسی قسم کی کوئی بہتری آئے گی۔'