ڈنمارک کا انروا کو 1.4 ملین ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ
امدادی رقم پورے سال کی بجائے فوراً تقسیم ہو گی
ڈنمارک کی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی انروا کو اضافی 10.2 ملین کرونر (1.4 ملین ڈالر) دینے کا وعدہ کر رہی ہے۔ انروا کے اسرائیل میں کام کرنے پر پابندی عائد ہے۔
حکومت نے ایک بیان میں کہا، ڈنمارک "انروا کی غیر جانبداری اور اندرونی اصلاحات کے عمل کو مضبوط کرنے کے لیے 10.2 ملین کرونر کا نئی امداد فراہم کرے گا۔"
اسرائیل کی جانب سے انروا پر حماس کو آڑ فراہم کرنے کے الزام کے بعد اسرائیلی قانون سازوں نے اسرائیلی سرزمین پر کام کرنے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی۔ یہ پابندی 30 جنوری کو نافذ ہوئی۔
کئی عطیہ دہندگان نے الزامات کے بعد انروا کے لیے اپنی اعانت میں کمی کر دی البتہ اب تقریباً سبھی نے اپنی فنڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ انروا تمام فلسطینی علاقوں میں کام جاری رکھے گی۔
ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ایک بیان میں کہا، "ڈینش حمایت میں اضافہ ایک واضح اشارہ ہے کہ ہم انروا کے کام اور مشن کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ اور یہ کہ ہم اندرونی اصلاحات اور غیر جانبداری پر تنظیم کی مضبوط تر توجہ کی حمایت کرتے ہیں۔"
وزیر نے "انروا کے خلاف اسرائیلی قوانین کے بارے میں بہت تشویش" کا اظہار کیا۔
ڈنمارک نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس کی 105 ملین کرونر کی سالانہ شراکت پورے سال کی بجائے فوری طور پر تقسیم کی جائے گی۔
انروا نے 70 سال سے زیادہ عرصے سے شرقِ اوسط میں فلسطینی پناہ گزینوں کو مدد فراہم کی ہے لیکن طویل عرصے سے اسرائیلی حکام نے بار بار اس پر ان کے ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔