امریکہ کا اپنے سفارتی مراکز کو خبر رساں اداروں کی سبسکرپشن ختم کرنے کا حکم

دی اکانومسٹ، دی نیویارک ٹائمز، پولیٹیکو، بلومبرگ نیوز، دی ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے دیکھے جانے والے اندرونی ای میل کے رہنما خطوط کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے "فضول" سمجھے جانے والے اخبارات اور میڈیا آؤٹ لیٹس کی تمام رکنیتیں منسوخ کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے ان میڈیا کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے عین مطابق ہے جو امریکی حکومت کو عام کلائنٹ سمجھتی ہیں۔ 11 فروری کو یورپ میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھیجے گئے اس میمو کو اخراجات میں کمی کی کوشش کا حصہ قرار دیا گیا۔

بھیجی گئی ای میل میں جزوی طور پر کہا گیا کہ "اس ترجیح کو دیکھتے ہوئے مراکز سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ تمام غیر اہم معاہدوں اور ایسی اشاعتوں، رسالوں، اور اخبارات جو تعلیمی اور پیشہ ورانہ جرائد نہیں ہیں کی سبسکرپشنز پر فوری طور پر کام روکنے کے آرڈر دیں۔ محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس حکم کا اطلاق عالمی سطح پر درجنوں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر ہوتا ہے۔

سفارت خانے کی سکیورٹی ٹیمیں تنازعات والے علاقوں میں سفارتی سفر کی تیاری کے لیے خبروں کی کوریج پر انحصار کرتی ہیں۔ ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ مقامی خبر رساں اداروں سمیت سبسکرپشنز منسوخ کرنا خطرے کی تشخیص کے کام کو روک سکتا ہے۔

جمعہ کو جاری کردہ ایک میمو میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں پروکیورمنٹ ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خاص طور پر چھ نیوز اداروں کے ساتھ معاہدوں کو ختم کرنے کو ترجیح دیں۔ ان چھ نیوز اداروں میں دی اکانومسٹ، دی نیویارک ٹائمز، پولیٹیکو، بلومبرگ نیوز، دی ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز شامل ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں