اسرائیلی فوج کے ٹینک 23 برس میں پہلی مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ویسے تو اسرائیلی فوج آئے روز غرب اردن کے شمالی شہر جنین میں مبینہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے مگر اس کے ٹینک 23 سال میں پہلی بار شہر میں داخل ہوئے ہیں۔ شمالی غرب اردن میں اسرائیلی ٹینک ایک ایسے وقت میں داخل ہوئے ہیں جب دوسری طرف اسرائیلی فوج ایک ماہ سے زائد عرصے سے جنین، طولکرم، طوباس اور نابلس میں کارروائیاں کررہی ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق مغربی کنارے میں آپریشن کو وسعت دینے کی تیاری میں ٹینک جینن میں داخل ہوگئے ہیں۔

دریں اثناء اسرائیلی فوج نے آج اتوار کو ایک مختصر بیان میں اعلان کیا کہ "جنین میں ایک ٹینک ڈویژن کام کر رہا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ان کی افواج، شین بیت اور بارڈر پولیس شمالی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی عسکری سرگرمیوں کو ناکام بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور جارحانہ کارروائیوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ نہال بریگیڈ اور ڈوڈیون یونٹ کی فورسز نے جنین کے علاقے کے اضافی دیہاتوں میں کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

مغربی کنارے کے شہر جنین سے - رائٹرز
مغربی کنارے کے شہر جنین سے - رائٹرز

اسی سیاق میں اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اپنی افواج کو ایک بکتر بند یونٹ اور اضافی دستوں سے کمک فراہم کی گئی ہے۔وہ جنین سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبے قباطیہ میں بھی کارروائی کررہے ہیں۔

اسرائیلی وزیردفاع نے جنین، طولکرم اور نور شمس کیمپوں سے 40,000 فلسطینیوں کو نکالنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وہ اب رہائشیوں سے خالی ہیں اور پناہ گزین کیمپوں میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’انروا‘ کی سرگرمیاں بھی معطل کر دی گئی ہیں۔"

یسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ "میں نے ’آئی ڈی ایف‘ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے سال تک خالی کیے گئے کیمپوں میں طویل مدتی قیام کے لیے تیار رہیں، اور رہائشیوں کو واپس جانے کی اجازت نہ دیں"۔

ادھر آج صبح اسرائیلی فورسز نے جنین کے جنوب میں واقع قصبے قباطیہ پر دھاوا بول دیا، سڑکوں کو بلڈوز کیا، انفراسٹرکچر تباہ کر دیا، گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد شہریوں کو حراست میں لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں