مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلسل جاری اسرائیلی فوج کی جنگی کارروائیوں کے پھیلنے کے بعد ' انروا' کے سربراہ نے بھی بین الاقوامی براداری کو خبردار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارا میدان جنگ بن رہا ہے۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران 50 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
بدھ کے روز فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ریلیف کا کام کرنے والے ادارے کے سربراہ فلپ لازارینی نے اسرائیلی فوج کے کے پھیلے ہوئے آپریشنز کے حوالے سے کہا ' پچھلے ماہ کے دوران درجنوں افراد جو 50 سے زائد ہیں ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ اب مغربی کنارا بھی ایک میدان جنگ بن رہا ہے۔ '
لازارینی نے اس امر کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر اپنی تازہ پوسٹ میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا 'ان ہلاک کیے گئے افراد میں فلسطینی بچے بھی شامل ہیں۔ '
'انروا' کے سربراہ نے اس قتل وغارت گری کے سلسلے میں کہا ' یہ لازماً بند ہونی چاہیے۔' واضح رہے اسرائیلی قابض فوج نے ایک ماہ سے زائد عرسے سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں اور خصوصاً پناہ گزین کیمپوں میں جنگی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ یہ کارروائیاں غزہ میں جنگ بندی کے ساتھ ہی شروع کر دی گئی تھیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ جنگجوؤں کو ٹارگٹ کر رہی ہے۔ تاہم یہ کئی دہائیوں کے بعد پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی فوج ان جنگی کارروائیوں کے دوران پناہ گزین کیمپوں میں ٹینکوں کے دستے بھی لے آئی ہے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے پورا جنگی منظر نامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے تاہم اسے اپنا باقاعدہ حصہ نہیں بنا سکا ہے۔ اب اس کی کوشش ہے کہ کسی طرح مقبوضہ علاقے سے فلسطینیوں کو نکال باہر کرے اور اس مقبوضہ علاقے کو باقاعدہ طور پر اپنے ساتھ ملا لے۔
اسرائیل کی اعلیٰ ترین سطح سے اتوار کے روز بتایا گیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اپنی فوج کو اس 'حالت جنگ' میں لمبے عرصے تک رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب تک اس دوران 40 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو جبری انخلا پر مجبور کیا جا چکا ہے۔
لازارینی نے کہا ' مغربی کنارے میں پبلک انفراسٹرکچر کی تباہی بھی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کے بلڈوزر سڑکیں تک تباہ کر رہے ہیں۔ تاکہ مقامی لوگوں کو اسرائیلی فوج تک پہنچنے کے راستے ہی بند ہو جائیں۔ ہر طرف خوف ، غم اور بے یقینی کی فضا غالب ہے۔'
سات اکتوبر سے غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے دوران جنگ بندی تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے کم از کم 900 فلسطینی اس کے علاوہ قتل کیے ہیں۔ اس دوران 32 اسرائیلی بھی مارے گئے تھے۔
'انروا' کے سربراہ نے اس اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں 5000 فلسطینی طلبہ کے سکول جانے کا سلسلہ رک جانے کی بھی اطلاع دی ہے۔ یہ پچھلے دس ہفتوں سے زائد عرصے سے سکول نہیں جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا ' لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے۔ جبکہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے بھی سخت دباؤ میں ہیں۔ '