آپ نے میری توہین کے لیے میرا استقبال کیا ، زیلنسکی کا ٹرمپ سے شکوہ
جدید تاریخ میں پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولودی میر زیلنسکی کے درمیان تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔
انتہائی غیر مانوس منظر
العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق جمعے کے روز 50 منٹ سے زیادہ جاری رہنے والی ملاقات کے دوران میں دونوں رہنماؤں کے درمیان صحافیوں اور کیمروں کے سامنے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
نامہ نگار نے مزید بتایا کہ ملاقات کا منظر نہایت عجیب تھا گویا کہ وائٹ ہاؤس کی سرگرمیوں کی کوریج کے 20 برس اس طرح کے کسی منظر سے مانوس نہ ہوئے۔
امریکی صدر نے ملاقات میں اپنے ہم منصب پر تنقید کا کوئی پہلو نہ چھوڑا ، یہاں تک کہ ٹرمپ نے یوکرینی صدر کے لباس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ "آپ نے یہ فوجی لباس کیوں پہنا ہوا ہے ... آپ نے وائٹ ہاؤس کے لائق کپڑے کیوں نہیں پہنے؟"۔
اسی طرح زیلنسکی نے ٹرمپ سے کہا کہ "آپ نے میری توہین کے لیے وائٹ ہاؤس میں میرا استقبال کیا ہے"۔
العربیہ کی نامہ نگار نے واضح کیا کہ عموما امریکی صدر اور ان کے نائب مہمان کے ساتھ اکٹھا ہو کر صحافیوں کے سامنے اس طرح کی تند و تیز بحث نہیں کرتے ہیں، بالخصوص ٹرمپ کا بنا کسی اعتراض علانیہ طور پر 30 سوالوں کا خیر مقدم کرنا اہم بات ہے.
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان شدید تلخ کلامی
العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صدر زیلنسکی کی توہین کو نظرانداز کرنا مشکل ہوگا، جس سے یوکرین کے اس معاہدے کے بارے میں ہٹ دھرمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ بالخصوص جب کہ یہ تلخ کلامی یوکرینیوں اور یورپیوں کے سامنے ہوئی جن کی یہی سوچ ہے کہ روس ایک جارح ملک ہے اور یوکرین پر حملہ کیا گیا۔
نامہ نگار نے واضح کیا کہ ملاقات کے موقع پر تمام سینئر صحافی موجود تھے جن کی تعداد سیکڑوں میں چلی گئی۔ یہ لوگ پریس کانفرنس کے ہال کے سامنے نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے بیرونی راستوں پر اکٹھا ہو گئے تھے۔
العربیہ کی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ غیر معمولی منظر اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا اور یقینا یہ تاریخ کی کتابوں اور دستاویزات میں شامل کیا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے یوکرینی ہم منصب کے ساتھ نشست کے دوران ہی "ٹروتھ سوشل" پلیٹ فارم پر پوسٹ کی جس میں انھوں نے لکھا کہ ان کے ہم منصب معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے مقررہ پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا اعلان بھی کیا۔
ٹرمپ کا مقصد معدنیات سے متعلق معاہدہ کرنا اور ساتھ ہی جنگ کے خاتمے اور فائر بندی کے معاہدے کی تطبیق کرنا تھا۔ تاہم زیلنسکی زیادہ بڑے مقاصد کے ساتھ آئے تھے اور یہ ہی وہ نکتہ ہے جس نے امریکی نائب صدر کے ساتھ اختلاف پیدا کر دیا۔
آخر کار یوکرینی صدر اپنے ہمراہ وفد کے ساتھ وائٹ ہاؤس سے نکل گئے جب کہ ٹرمپ وہاں رہ گئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ہم منصب سے کوچ کی گزارش کی تھی۔
معدنیات سے متعلق معاہدہ منسوخ
وائٹ ہاؤس کے ایک ذمے دار کے مطابق زیلنسکی اور ٹرمپ نے معدنیات کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔
ذمے دار نے کہا کہ معاملہ اب یوکرینیوں پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ آیا اس مشترکہ پریس کانفرنس کے لیے نئی تاریخ مقرر کی جا سکتی ہے جس کو منسوخ کر دیا گیا۔
ٹرمپ نے زیلنسکی کو آگاہ کیا کہ ان کا بیان احترام سے عاری ہیں۔ امریکی صدر نے یوکرینی ہم منصب سے کہا کہ وہ سودے بازی کے لیے کوئی کارڈ نہیں رکھتے ہیں۔ انھوں نے زیلنسکی سے غصے میں کہا کہ "آپ تیسری عالمی جنگ چھیڑنے کا جوا کھیل رہے ہیں ... آپ ہمیں نہ بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے ... آپ امریکا کے بغیر کمزور ہیں"۔
پوتین کے ساتھ کوئی تصفیہ نہیں
ادھر یوکرینی صدر نے ٹرمپ سے کہا کہ روسی صدر ولادی میری پوتین کے ساتھ کوئی "تصفیہ" نہیں ہو گا جب کہ فریقین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ "ہماری سرزمین پر لڑنے والوں کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا"۔
ملاقات سے قبل سفارتی سرگرمی
واضح رہے کہ امریکی صدر نے جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنے یوکرینی ہم منصب کا استقبال کیا۔ ملاقات کا مقصد نادر معدنیات کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کرنا اور روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر بات کرنا تھا۔
کشیدگی سے بھرپور ملاقات سے قبل ایک ہفتے سے مسلسل سفارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ اس دودران میں فرانس کے صدر اور برطانوی وزیر اعظم نے وائٹ ہاؤس کا رخ کیا تا کہ ٹرمپ کو یوکرین کو اکیلا نہ چھوڑنے پر قائل کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے نیٹو اتحاد میں یوکرین کی شمولیت کے امکان کا باب بند کر دیا۔ اس رکنیت کو ماسکو اپنی قومی سلامتی کے لیے سرخ لکیر شمار کرتا ہے۔
اسی طرح روس کے ساتھ امن معاہدے کی صورت میں امریکا یوکرین کو کون سی سیکورٹی ضمانتیں پیش کر سکتا ہے، اس بارے میں بھی ٹرمپ کا موقف مبہم رہا۔