ٹروڈو اور شاہ چارلس کینیڈا کے انضمام سے متعلق ٹرمپ کی دھمکی پر بات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو آج پیر کے روز شاہ چارلس سوم سے بطور کینیڈا کے بادشاہ کے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو بطور 51 ویں ریاست ضم کرنے کی دھمکی زیر بحث آئے گی۔

ٹرمپ کی اس دھمکی کے حوالے سے خاموشی کے سبب کینیڈا میں شاہ چارلس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ٹروڈو نے اتوار کے روز لندن میں بتایا کہ وہ شاہ چارلس کے ساتھ کینیڈا کے عوام کی نسبت سے اہم موضوعات پر بات چیت کریں گے۔ ٹروڈو کا کہنا تھا کہ "کینیڈین باشندوں کے لیے اس وقت بطور ریاست ہماری خود مختاری اور آزادی سے زیادہ اہم کوئی چیز نظر نہیں آ رہی"۔

شاہ چارلس کینیڈا کی ریاست کے سربراہ شمار ہوتے ہیں ، جو برطانوی دولت مشترکہ کا رکن بھی ہے۔

کینیڈا میں شاہی مخالفت تحریک کا عمومی حجم بڑا نہیں ہے تاہم ٹرمپ کی دھمکیوں کے حوالے سے شاہ چارلس کی خاموشی نے حالیہ دنوں میں اس موضوع پر گفتگو کا دروازہ کھول دیا ہے۔

اتوار کے روز یوکرین کے صدر ولودی میری زیلنسکی سے ملاقات کرنے والے شاہ چارلس نے ٹرمپ کو ریاست کے دورے پر اسکاٹ لینڈ آنے کی دعوت دی تھی۔
اگرچہ کینیڈا کے لوگ عموما شاہی خاندان سے بے پروا رہتے ہیں تاہم ان میں بہت سے شہریوں کے دل میں آنجہانی ملکہ الزبتھ کی بڑی محبت تھی۔ کینیڈا کی کرنسی پر ملکہ کی تصویر موجود ہے اور انھوں نے اپنی حکمرانی کے دوران میں 22 مرتبہ کینیڈا کا دورہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ کینیڈا میں فرماں روائی کے خاتمے کا مطلب آئین کی تبدیلی ہے۔ یہ ایک ایسا مقصد ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے خطرات سے بھرا ہوا ہے۔ اس لیے کہ یہ آئین بڑی توجہ کے ساتھ اس طرح مرتب کیا گیا تھا کہ یہ 4.1 کروڑ افراد پر مشتمل ایک قوم کو یکجا کر دے جس میں انگریزی بولنے والے، فرانسیسی بولنے والے، مقامی قبائل اور نئے تارکین وطن شامل ہیں جن کی ملک میں آمد مسلسل جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں