بشار کے دور میں جمع شدہ کیمیائی ہتھیار تباہ کر دیے جائیں گے : شام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ معزول صدر بشار الاسد کے دور میں جمع کیے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کر دیا جائے گا۔ انھوں نے یہ عہد ہیگ میں 'کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم' (OPCW) کے سامنے اپنے ایک تاریخی خطاب میں کیا۔

الشیبانی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے لوجسٹک، تکنیکی اور عملی چیلنجوں کو جنم دے رہے ہیں ... اور ان حملوں سے کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے عدم یقین کی حالت میں اضافہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ اسعد الشیبانی وہ پہلے شامی نمائندے ہیں جنھوں نے 'او پی سی ڈبلیو' کی ایگزیکٹو کونسل کے سامنے خطاب کیا۔

شام نے 2013 میں روسی اور امریکی دباؤ کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم میں شمولیت پر آمادگی کا اظہار کیا تھا تا کہ اپنے ذخیرے کو ظاہر کر کے اسے حوالے کر دے۔ اس کے مقابل امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں سے بچ سکے۔ اس وقت شام کی سرکاری فوج پر دمشق کے دیہی علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ مذکورہ حملے کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد موت کا شکار ہوئے۔ شامی حکام نے اس موقع پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تردید کی تھی۔

اس وقت بشار کے دور میں شامی حکومت نے باور کرایا تھا کہ اس نے اپنا کیمیائی ہتھیاروں کا پورا علانیہ ذخیرہ تلف کر دیے جانے کی غرض سے حوالے کر دیا ہے۔ التبہ تنظیم نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ دمشق کا ذکر کردہ ذخیرہ پورا نہیں ہے بلکہ اس نے یقینا دیگر ہتھیار چھپا لیے۔

یاد رہے کہ 'او پی سی ڈبلیو' تنظیم کی تحقیقات میں کہا گیا کہ 2011 میں بھڑکنے والی خانہ جنگی کے دوران میں شامی حکومت کی جانب سے غالبا ملک میں 20 مواقع پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

آٹھ دسمبر کو مسلح اپوزیشن گروپوں کے ہاتھوں بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد 'او پی سی ڈبلیو' تنظیم نے بتایا تھا کہ اس نے نئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو محفوظ بنایا جائے۔

اسرائیل یہ باور کرا چکا ہے کہ بشار حکومت کے سقوط کے بعد اس کی جانب سے شام پر سیکڑوں حملوں میں 'باقی ماندہ کیمیائی ہتھیاروں' کو بھی نشانہ بنایا گیا تا کہ وہ "شدت پسندوں کے ہاتھوں" میں نہ چلے جائیں۔

الشیبانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شفافیت، انصاف اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون کی بنیادوں پر شام کے مستقبل کی تعمیر نو کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "بشار کے دور میں بنایا جانے والا کیمیائی ہتھیاروں کا پروگرام ہمارا پروگرام نہیں ہے تاہم اس کے باوجود ہم باقی رہ جانے والے ذخیرے کو ختم کرنے کے پابند رہیں گے"۔

دوسری جانب 'کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم' (OPCW) کے ڈائریکٹر جنرل فرنانڈو اریاس نے منگل کے روز بین الاقوامی وفود کے سامنے خطاب میں کہا کہ بشار حکومت کے سقوط نے ایک "نیا اور تاریخی موقع" پیش کیا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کی تصدیق ہو جائے اور پھر اسے تباہ کر دیا جائے۔
گذشتہ ماہ اریاس نے اپنے دمشق کے پہلے دورے میں عبوری شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں