ویٹیکن نے جمعہ کو کہا کہ نمونیا کے علاج کے لیے ہسپتال میں تین ہفتے گذارنے کے بعد پوپ فرانسس نے ایک "پرسکون رات" گذاری۔ یہ خبر 88 سالہ بزرگ پوپ کے پہلا آڈیو پیغام جاری کرنے کے ایک دن بعد سامنے آئی۔
دی ہولی سی نے جمعرات کی شام کو اطلاع دی تھی کہ پوپ کی حالت مسلسل تیسرے دن "مستحکم" تھی، سانس کا مسئلہ دوبارہ نہیں ہوا جو روم کے جیمیلی ہسپتال میں اس کے قیام کے دوران بار بار پیش آیا۔
اس کے بعد دی ہولی سی نے دن کے اوائل میں کی گئی ایک آڈیو ریکارڈنگ جاری کی جس میں سانس لینے سے محروم فرانسس نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
ارجنٹائن نے سینٹ پیٹرز سکوائر میں نشر ہونے والے ایک پیغام میں کہا، "میں سکوائر سے اپنی صحت کے لیے آپ کی دعاؤں پر دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں یہاں سے آپ کے ہمراہ ہوں۔"
"خدا آپ کو اپنی رحمت سے نوازے اور باکرہ (مریم) آپ کی حفاظت کرے۔ آپ کا شکریہ۔" اپنی آبائی ہسپانوی زبان میں بات کرتے ہوئے انہیں سانس لیتے ہوئے مشقت کرنا پڑی۔
فرانسس کے 14 فروری کو جیملی ہسپتال میں داخلے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب دنیا نے ان کی آواز سنی۔ یہاں 10ویں منزل پر پوپ کے لیے خصوصی کمرہ مخصوص ہے۔
'مثبت علامت'
پوپ کی صحت یابی کی دعا کرنے کے لیے زائرین ہر شام ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز سکوائر پر جمع ہو رہے ہیں اور جمعرات کو وہاں موجود سینکڑوں لوگوں نے ان کا پیغام سن کر تالیاں بجائیں۔
"ہم بہت خوش تھے کہ وہ بول سکتے تھے،" 76 سالہ انگریز زائر جان میلونی نے کہا۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "یہ ایک مثبت علامت ہے کہ وہ حقیقت میں بولنے کے قابل ہیں۔ انہیں بہت طویل سفر طے کرنا ہے اس لیے وہ خدا کی حفاظت میں ہے۔"
روم کے ایک اور مقامی رہائشی ایلیسنڈرا ڈالبونی نے کہا، "یہ ایک مثبت علامت تھی اس لیے ہمیں امید ملتی ہے کہ ان میں اب بھی بولنے کی طاقت ہے۔ اور لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔"
فرانسس نے سانس لینے کی مشقیں اور فزیوتھراپی جاری رکھی، انہیں بخار نہیں تھا اور صبح اور دوپہر میں تھوڑا سا کام کرنے میں کامیاب رہے۔
ویٹیکن پوپ کی صحت کے بارے میں روزانہ دو بار تازہ معلومات فراہم کرتا رہا ہے: ایک صبح کو کہ رات کیسی گذری اور ایک شام کا میڈیکل بلیٹن۔
لیکن جمعرات کو اس نے کہا، "طبی حالت میں استحکام کے پیشِ نظر اگلا میڈیکل بلیٹن ہفتہ کو جاری کیا جائے گا"۔
اس کے باوجود اس نے کہا، "ڈاکٹر بدستور یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے"۔