خواتین کےعالمی دن کے موقعے پر غزہ کی خواتین بے گھر، صدموں سے دوچار اور بھوک کا شکار
دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا گیا ۔ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اسرائیل کی طرف سے مسلط کی جانے والی خوفناک جنگ کے نتیجے میں ایک تلخ حقیقت سے گذر رہی ہیں۔
اس جنگ نے ہزاروں خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیا، انہیں تقریباً 16 ماہ تک مسلسل بے گھر ہونے پر مجبور کیا، محفوظ رہائش، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال جیسی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا۔
انہیں خیموں اور سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ سکول جنہیں پناہ گاہوں کے طورپر استعمال کیا جا رہا تھا میں موجود خواتین کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ فلسطینی خواتین کو جن سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے انہیں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہزاروں خواتین اپنے شوہروں اوربیٹوں سے محروم ہو چکی ہیں۔ بہت سی زخمی ہیں۔
ہر سال کی طرح اس بار آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا گیا جس میں دنیا بھر میں خواتین کی کامیابیوں ، ان کے حقوق پر بات کی گئی۔ ایسے میں یہ غزہ کی پٹی کے "مصیبت زدہ" ، دکھی اور غموں کی ماری فلسطینی خواتین کی یاد بھی دلاتا ہے۔
پٹی میں سرکاری میڈیا آفس کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کے دوران تقریباً 12,316 فلسطینی خواتین کو قتل کیا۔
جنگ میں خواتین کی توہین اور تذلیل
غزہ کی پٹی کے ایک سکول میں پناہ لینے والی ام اکرم ابو شمالہ جو پٹی کے شمال میں بیت حناون شہر سے اس کے جنوب میں بے گھر ہوئی تھی نے انادولو ایجنسی کو بتایا: "فلسطینی خواتین جنگجو ہیں۔ ہم ایک باوقار زندگی گزارتے تھے۔ جنگ نے ان کی تذلیل کی ہے کیونکہ وہ کھانے، پینے یا لباس کے بغیر تکلیف میں رہتے ہیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے بچے بے گھر یا لاپتا ہیں، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں، ہم سکولوں میں بجلی اور پانی کے بغیر رہتے ہیں، ہمیں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ۔ ہماری جان و آبرو ہر وقت خطرے میں رہتی ہے‘۔
جنگ میں اپنے شوہر اور دو بیٹوں کو کھونے والی ام انور ابو حاطب کی حالت کی تکلیف بھی ام شمالہ سے چنداں مختلف نہیں ہے۔ اس نے انادولو ایجنسی کو بتایا: "ہم گھر سے بے گھر ہو گئے اور میں نے اپنے بچوں اور شوہر کو کھو دیا۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ ہے اور نہ پہنے کو اور نہ پینے کے لیے پانی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ"تکلیف تلخ اور مشکل ہے۔ میں نے اپنے بیٹوں کو کھو دیا، جن میں سے ہر ایک نے پانچ افراد کے خاندان کی کفالت کی۔ غزہ سے باہر خواتین جشن مناتی ہیں جب کہ یہاں ہم ظلم، ناانصافی اور تباہ میں رہتے ہیں۔ ہم سب غمزدہ ہیں، لیکن محاصرے کے باوجود ثابت قدم ہیں"۔
سات اکتوبر 2023ء سے خواتین کو نقل مکانی کی سختی کا سامنا ہے۔وہ بمباری میں تباہ ہونے کے بعد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔ اب ہمیں خیموں کی تلاش ہے جن میں کوئی آرام و راحت نہیں‘۔
اداسی اور غم کا دن
سکول میں ایک بے گھر فلسطینی خاتون ام احمد نے انادولو ایجنسی کو بتایاکہ "خواتین کا دن پوری دنیا میں جشن اور عزت کا دن ہے، لیکن غزہ میں یہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے جنگ اور بمباری سے گذر رہا ہے"۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ خواتین کا دن ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے ایک "ذلت کا دن" بن گیا ہے۔ "عزت پانے کے بجائے ہم اپنے آپ کو آگ پر کھانا پکاتے، اپنے ہاتھوں سے کپڑے دھوتے، خیموں میں اور زمین پر سوتے ہوئے پاتے ہیں"۔
انہوں نے کہاکہ "دنیا خواتین کا دن مناتی ہے، غزہ میں فلسطینی خواتین اپنے گھروں میں باوقار زندگی کی تلاش اور امداد کی منتظر ہیں"۔
تکلیف دہ حالات
فلسطینی ام احمد ابو عیادہ جو ایک خیمے میں رہتی ہیں اور اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنے چار بچوں کے لیے افطاری بنا رہی تھیں نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ "میرے شوہر کی موت جنگ کے دوران کینسر کی وجہ سے ہوئی۔ ان کے علاج کے لیے کیموتھراپی کی کوئی خوراک نہیں تھی اور ہمارے پاس اس کی ضروری دیکھ بھال فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں تھی"۔
اس نے نشاندہی کی کہ وہ جنگ کی وجہ سے مشکل حالات سے گزر رہی ہے اور اپنی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔
اس نے وضاحت کی کہ میں نے اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک چھوٹے سے پروجیکٹ پر کام شروع کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ یوم خواتین منانے کے بجائے فلسطینی خاتون اپنا دن پانی لانے اور لکڑیاں جمع کرنے میں گزارتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ وہ مصر میں اپنے خاندان سے بہت دور ہیں جو علاج کے لیے روانہ گیا۔ بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے اب کوئی رابطہ نہیں ہے۔
شامی سے شادی کے بعد غزہ جانے والی عیادہ دمشق واپس آنے کےلیے پرامید ہے۔ اس نے کہ"میں 12 سال سے غزہ میں ہوں اور میرے پاس چار یتیم ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ میں اس مصیبت کو کیسے گزاروں"۔
اس نے مزید کہاکہ "میں بہت تھک گئی ہوں۔ میرا 13 سالہ بیٹا وہ ہے جو ہماری ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کراسنگ کھل جائے گی تاکہ میں اپنے ملک واپس جا سکوں"۔
سات اکتوبر 2023 کو نسل کشی کے آغاز سے لے کر 19 جنوری کو غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے نفاذ تک فلسطینی خواتین کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کو بحال نہیں کر سکیں۔
خواتین جنگ کا شکار ہیں
غزہ میں خواتین نےبچوں کے ساتھ اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت ادا کی ہے جو کہ 19 جنوری تک 46,960 اموات کی کل تعداد کا 70 فیصد بنتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق جنگ کے دوران غزہ کی وزارت صحت کی طرف سے شائع ہونے والی ہلاکتوں میں بیماری یا ملبے کے نیچے دبے ہوئے افراد شامل نہیں ہیں۔ اس کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ ستمبر 2024 تک ہونے والی کل اموات میں سے 70 فیصد خواتین اور بچے تھے۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کے اہلکار میریس گائیمنڈ نے 18 جولائی 2024 کو یروشلم سے ویڈیو کے ذریعے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ اب تک 6000 سے زائد فلسطینی خاندان اپنی ماؤں سے محروم ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ نسل کشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے المناک حالات متعدی امراض کا پھیلنا اور سنگین زخم شامل ہیں۔ اس صورت حال نے غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔
فلسطینی سینٹرل بیورو آف سٹیٹسٹکس کے سربراہ اولا عواد کی رپورٹ کے مطابق، نسل کشی کے مہینوں کے دوران 110,725 زخمیوں میں سے 69 فیصد خواتین اور بچے تھے۔
-
کیا ویٹکوف نے غزہ کی تعمیرنو سے متعلق عرب منصوبہ پُر کشش قرار دیا ؟
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور مشرق وسطی کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیف ...
بين الاقوامى -
چار عرب ممالک کی غزہ کی تعمیر کے لیے عرب ممالک کے پیش کردہ منصوبے کی حمایت
فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ ...
مشرق وسطی -
غزہ: اسرائیل کی رفح پر بمباری دو فلسطینی جاںبحق ، ڈرون مار گرایا
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ کی پٹی کی انتہائی جنوب میں واقع رفح شہر پر اس وقت ...
مشرق وسطی