امریکی ارب پتی ایلون مسک نے جمعے کے روز وزارت دفاع (پینٹاگان) میں ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات کا انعقاد کیا جس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی۔ انھوں نے زور دیا کہ وزارت میں ایسے کسی بھی ذمے دار کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے جو "جھوٹی اور شرپسند معلومات" پھیلا رہے ہیں۔
ماسک نے امریکی وزیر دفاع کے ساتھ 80 منٹ تک ملاقات کی۔ یہ پینٹاگان میں اپنی نوعیت کی پہلی بات چیت ہے۔
اس سے قبل امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے بتایا تھا کہ ایلون مسک چین کے حوالے سے خفیہ جنگی منصوبوں کی جان کاری حاصل کریں گے۔ تاہم ایلون مسک ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر شخصیات نے اس کی تردید کی ہے۔ ایلون مسک نے اس رپورٹ کو "محض پروپیگنڈا" قرار دیا۔ انھوں نے رپورٹ اِفشا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی پر زور دیا۔
ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے امریکی منصوبوں کو کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایلون کے چین میں کاروباری معاملات ہیں جو متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزے کے مطابق انھوں نے مسک کے ساتھ غیر سرکاری بات چیت کی جس میں تخلیق اور اہلیت پر توجہ مرکوز رہی۔ ہیگزے کا کہنا ہے کہ "جنگ کا کوئی منصوبہ نہیں چینی جنگ کے حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں اور کوئی خفیہ منصوبہ نہیں ہے"۔
واضح رہے کہ "ٹیسلا" اور "اسپیس ایکس" کمپنیوں کے مالک ایلون مسک کے چین میں تجارتی مفادات ہیں لہذا ان کے مفادات کا ٹکراؤ سامنے آ سکتا ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس یہ کہہ چکا ہے کہ اگر تجارتی معاملات میں اور وفاقتی حکومت کے اخراجات میں کمی میں کردار کے حوالے سے مفادات میں کوئی ٹکراؤ آیا تو مسک سبک دوش ہو جائیں گے۔
-
ایلون مسک کا ایکس کی سنسر شپ پر بھارتی حکومت پر مقدمہ دائر
ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے بھارتی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ ...
بين الاقوامى -
"جب بھی اسے چلاتا ہوں، مسک یاد آتا ہے" امریکی سینیٹر کا احتجاجا ٹیسلا کار بیچنے کا اعلان
امریکی ارب پتی ایلون مسک کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایریزونا سے امریکی ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کی تجارتی جنگ کی چنگاری ان کے دوست ایلون مسک کے مفادات تک پہنچنے لگی
ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھڑکائی گئی تجارتی جنگ کی چنگاری ...
بين الاقوامى