امریکہ کا "یوکرین جنگ" مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر سعودی ولی عہد سے اظہار تشکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

یوکرینی اور امریکی مندوبین کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور منگل کی شام سعودی عرب میں امریکہ اور روس کے حکام کے درمیان ملاقات کے بعد اختتام پذیر ہوا۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ "روس اور یوکرین نے بحیرہ اسود میں لڑائی ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ کیئف نے "بحیرہ اسود میں حملے بند کرنے" کا وعدہ کیا ہے۔

ریاض مذاکرات میں یوکرینی وفد کے سربراہ یوکرین کے وزیر دفاع رستم عمروف نے زور دیا کہ بحیرہ اسود میں نیوی گیشن کی حفاظت کو یقینی بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات پر حملوں پر مکمل پابندی کے نفاذ کے لیے امریکہ کے ساتھ معاہدے طے پا گئے ہیں۔

عمروف نے کہا کہ "تمام فریقوں نے نیوی گیشن کی حفاظت کو یقینی بنانے، طاقت کے استعمال کو روکنے اور بحیرہ اسود میں فوجی مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کے استعمال پر پابندی لگانے پر اتفاق کیا۔ تمام فریقوں نے یوکرین اور روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر مکمل پابندی کے صدور کے معاہدوں پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا"۔

یوکرین نے منگل کے روز امریکہ کی طرف سے اعلان کردہ معاہدوں کی "تفصیلات" پر روشنی ڈالنے کے لیے اضافی مشاورت کی درخواست کی اور کہا کہ کیئف اور ماسکو دونوں نے سعودی عرب میں الگ الگ بات چیت کے بعد بحیرہ اسود میں حملوں سے بچنے کا عہد کیا ہے۔

یوکرین کے وزیر دفاع عمروف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ "انتظامات کو نافذ کرنے، نگرانی کرنے اور کنٹرول کرنے کی تمام تفصیلات اور تکنیکی پہلوؤں پر اتفاق کرنے کے لیے جلد از جلد اضافی تکنیکی مشاورت کا انعقاد ضروری ہے"۔

یوکرین نے منگل کے روز خبردار کیا تھا کہ بحیرہ اسود کے مشرقی حصے سے باہر روسی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت خطے میں "طاقت کے استعمال" کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان امریکی ثالثی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

یوکرین کے وزیر دفاع عمروف نے فیس بک پر کہا کہ اگر روسی جنگی جہاز بحیرہ اسود کے مشرقی حصے سے حرکت کرتے ہیں تو "یوکرین کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہو گا"۔

وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا کہ "امریکہ اور یوکرین نے جنگی قیدیوں کے تبادلے کو مکمل کرنے میں مدد کے لیے واشنگٹن کے عزم پر اتفاق کیا ہے" ۔انہوں نے کہا کہ وہ "ریاض میں کیئف اور ماسکو کے درمیان مذاکرات کی سہولت فراہم کرتے رہیں گے"۔

ریاض میں روسی اور امریکی ماہرین کی ٹیموں کے اجلاس کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور ماسکو یوکرین میں دیرپا امن کے حصول کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

بیان میں لکھا گیا کہ "امریکہ اور روس ایک ٹھوس اور دیرپا امن کے حصول کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ امریکہ نے روس-یوکرین تنازعے کے دونوں اطراف میں خونریزی کو روکنے کی ضرورت کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اصولی مؤقف کی توثیق کی ہے‘‘۔

ریاض میں روسی اور امریکی ماہرین کے گروپوں کے اجلاس کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق روس اور امریکہ نے بحیرہ اسود میں نیوی گیشن کو یقینی بنانے اور طاقت کے استعمال کو روکنے پر اتفاق کیا۔

دریں اثنا امریکہ نے منگل کو کہا کہ وہ یوکرین پر حملے کے بعد اس پر عائد زرعی پابندیوں کو ہٹانے اور روسی کھاد کی برآمدات کی حمایت کرے گا۔

سعودی عرب میں جنگ پر بات چیت کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "امریکہ روس کو زرعی اور کھاد کی برآمدات کے لیے عالمی منڈی تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے، شپنگ انشورنس کے اخراجات کو کم کرنے اور اس طرح کے لین دین کے لیے بندرگاہوں اور ادائیگی کے نظام تک رسائی بڑھانے میں مدد کرے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں