پہلی بار امریکی پرچم کو ایرانی عسکری قیادت کےپاؤں تلےنہ روند کرتہران کیاپیغام دینا چاہتاہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں عموما کسی عسکری عہدیدار کے مختلف تنصیبات کے دورے کے دوران ان کے پاؤں تلے امریکہ اور اسرائیل کے پرچموں کو روندے جانے کا منظر دکھایا جاتا ہے مگر کل رات نیوز کی نشریات کے دوران نشر ہونے والے ایک ویڈیو کلپ میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد باقری کو سپاہ پاسداران انقلاب کور کی ایرو اسپیس فورس سے تعلق رکھنے والے ایک نئے میزائل سٹی کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس موقعے پر فوجی کمانڈروں کے پیروں کے نیچے زمین پر اسرائیلی جھنڈا دکھائی دے رہا تھا۔

عام طور پر ایسے مواقع پر امریکی پرچم کو زمین پر اسرائیلی پرچم کے ساتھ کھینچا جاتا ہے، جسے ایک ساتھ روند دیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ دورے کے دوران لیفٹیننٹ جنرل باقری اور آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر میجر جنرل حاجی زادہ کے پیروں کے نیچے صرف اسرائیلی پرچم موجود تھا۔

ایرانی میڈیا نے پہلے بتایا تھا کہ صدر مسعود پیزشکیان کے دور حکومت کے پہلے مہینوں میں گورنمنٹ ہاؤس کے گراؤنڈ سے امریکی پرچم ہٹا دیا گیا تھا۔

دوسری رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایران کے بعض اداروں اور یونیورسٹیوں نے اس روایت کی تاثیر اور اس پر ردعمل کے بارے میں اندرونی بحث کے درمیان فرش پر امریکی پرچم کو پینٹ کرنے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایران میں امریکی اور اسرائیلی جھنڈوں پر قدموں کی علامتی تاریخ ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈوں پر چلنا 1979ء سے احتجاج کا ایک علامتی عمل ہے۔یہ روایت امریکی سفارت خانے پر قبضے کے تناظر میں شروع ہوئی اور بعد کی دہائیوں میں خاص طور پر سرکاری پریڈوں میں جاری رہی۔

حالیہ برسوں میں اس عمل نے ایران کے اندر مختلف ردعمل دیکھا ہے، کچھ شہریوں نے جھنڈوں پر چلنے سے انکار کر دیا ہے۔

موجودہ پیش رفت کے تناظر میں اس دورے کے دوران ایرانی فوجی رہنماؤں کے پاؤں تلے امریکی پرچم نہ رکھنے کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی سے بچنے کی کوشش کا پیغام ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک حساس وقت میں سامنے آ ئی ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے تہران کو جوہری معاہدہ کرنے پر زور دیتے ہوئے معاہدے سے گریز کی صورت میں دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں