ایک سویڈش صحافی جسے استنبول کے میئر کو جیل بھیجنے کے خلاف مظاہروں کی کوریج کے لیے ترکیہ پہنچنے پر حراست میں لیا گیا تھا، اسے دہشت گردی سے متعلقہ الزامات اور صدر کی توہین کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، ترک ایوانِ صدر نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی۔
ایوانِ صدر نے ایک بلیٹن میں کہا، ڈیگنز ای ٹی سی اخبار کے لیے کام کرنے والے جواکم میڈن کو 'مسلح دہشت گرد تنظیم میں رکنیت' اور 'صدر کی توہین' کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
سویڈن کی وزیرِ خارجہ ماریا مالمر سٹینرگارڈ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ میڈن کو جمعرات کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب ان کا طیارہ ترکیہ میں اترا۔
ایوانِ صدر نے اپنے "ڈس انفارمیشن کامبیٹ سنٹر" کے شائع کردہ ایک بلیٹن میں کہا کہ مذکورہ صحافی "ترکیہ مخالف خبروں اور کالعدم کرد دہشت گرد تنظیم پی کے کے سے قربت کے لیے معروف تھا۔"
اس نے مزید کہا کہ گرفتاری کے اس فیصلے کا صحافتی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
احتجاج کی کوریج کے لیے پیر کے روز گرفتار کردہ 11 صحافیوں میں سے آخری کو حکام نے رہا کر دیا جن میں اے ایف پی کے فوٹوگرافر یاسین اکگل بھی شامل ہیں۔ اس کے چند گھنٹے بعد ہی میڈن کو جیل بھیجا گیا۔
نشریاتی ادارے نے بتایا کہ ترک حکام نے احتجاج کی کوریج کرنے والے بی بی سی کے صحافی مارک لوون کو بھی ملک بدر کر دیا ہے۔ بدھ کے روز انہیں 17 گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد یہ کہہ کر ملک بدر کیا گیا کہ وہ "امنِ عامہ کے لیے خطرہ" تھے۔
جمعرات کو ایک بیان میں ترکیہ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ لوون کو "رسمی منظوری اور اجازت کی کمی کے باعث" ملک بدر کیا گیا۔