اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی میں جنگ کے آخری مرحلے کے بارے میں بات کرنے اور حماس کی قیادت کو غزہ کی پٹی سے نکلنے کی اجازت دینے کو تیار ہے ... اس شرط کے ساتھ کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ حماس پر فوجی دباؤ کارگر رہا اور یرغمالیوں کے حوالے سے مذاکرات جنگ کے سائے میں ہو رہے ہیں، اور یہ بھی مؤثر ہیں۔
اپنی حکومت کے ارکان سے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ "آج صبح میں تین “H” کے بارے میں بات کروں گا ... سب سے پہلے حماس ، پھر حزب اللہ اور آخر میں حوثی"۔
نیتن یاہو کے مطابق "اسرائیلی کابینہ گذشتہ رات اکٹھا ہوئی تھی اور اس نے دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، تا کہ حماس کو پیس دینے کا عمل تیز ہو سکے اور ہمارے مغویوں کی رہائی کے واسطے مثالی صورت حال جنم لے سکے"۔
نیتن یاہو نے تین دعوؤں کے بارے میں وضاحت پیش کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ "پہلا دعویٰ کہ ہم مذاکرات نہیں کر رہے ہیں، یہ درست نہیں۔ ہم جنگ کے سائے میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ مؤثر ہیں ... دوسرا دعویٰ ہے کہ ہم حتمی مرحلے کے لیے بات چیت کو تیار نہیں، یہ بھی درست نہیں ہے، ہم تیار ہیں۔ حماس کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے جس کے بعد اس کی قیادت کو غزہ کی پٹی سے باہر جانے کی اجازت ہو گی۔ ہم غزہ کی پٹی میں عمومی سیکورتی سنبھالیں گے اور پھر "رضاکارانہ ہجرت" کے حوالے سے ٹرمپ کے منصوبے کو فعال کریں گے۔ ہمارا یہ پلان ہے جس کو ہم چھپاتے نہیں ہیں، ہم کسی بھی وقت اس کو زیر بحث لانے کے لیے تیار ہیں ... تیسرا جھوٹا دعویٰ ہے کہ "ہم اغوا شدگان کی پروا نہیں کرتے"۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ بات نہ ان مرد اور خواتین وزراء پر صادق نہیں آتی جو اغوا شدگان کے اہل خانہ سے مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں اور نہ میرے اور میری بیوی کے لیے ... یہ دعویٰ کہ ہم پروا نہیں کرتے، یہ حماس کے پروپیگنڈے کی تکرار ہے جسے وہ تشہیری وڈیوز میں استعمال کرتی ہے تاکہ تفریق پیدا کرے اور ہماری ساکھ خراب کرے۔
حزب اللہ کے بارے میں نیتن یاہو نے واضح کیا کہ "لبنان میں رعائتوں کے بغیر پر عزم طور پر نفاذ سامنے آیا ہے۔ یہ وہ ہدایات ہیں جو میں نے سیکورٹی کے وزیر اور کابینہ کے ساتھ مل کر اسرائیلی فوج کو دی تھیں۔ فوج ان پر مکمل صورت میں عمل درآمد کر رہی ہے"۔
نیتن یاہو کے مطابق لبنانی ریاست کو چاہیے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین سے اسرائیل پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔ ہم لبنان اور اس کی فوج کا احترام کرتے ہیں، اسی لیے ان سے اسی طرح مطالبہ کر رہے ہیں جس طرح آپ کسی محترم شخص سے کرتے ہیں۔
حوثیوں کے حوالے سے نتین یاہو کا کہنا تھا کہ "میں اپنے اتحادی یعنی امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے بہت سے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ وہ بڑی طاقت کے ساتھ ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم یقینا اپنی حفاظت پر کام کر رہے ہیں تاہم امریکہ کا بزور طاقت داخل ہونا ایک اہم پیش رفت ہے"۔