سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیر اعظم کو ہدایت کی ہے کہ وہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں توازن کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ ان کی ہدایات میں رائل کمیشن برائے ریاض کو شہریوں کے لیے منصوبہ بند اور ترقی یافتہ رہائشی اراضی فراہم کرنا شامل ہے۔ آئندہ پانچ سالوں میں سالانہ 10 سے 40 ہزار پلاٹس دیے جائیں گے۔ طلب اور رسد کے مطابق اس زمین کی قیمت 1500 ریال مربع میٹر سے تجاوز نہیں کرے گی۔ یہ زمین شادی شدہ افراد یا 25سال سے زیادہ عمر والے افراد کو دی جائٍں گی۔
دریں اثنا رہائشی اراضی کے حصول کے طریقہ کار کے لیے ضروری ہے کہ درخواست دہندہ کے پاس رئیل اسٹیٹ کی کوئی سابقہ ملکیت نہ ہو۔ باقی دیگر شرائط کو پورا کرنے کے ساتھ یہ بھی لازم ہوگا کہ 10 سال کے اندر اسے فروخت نہ کیا جائے، کرائے پر یا رہن پر نہ دیا جائے۔ یا کسی بھی طرح سے اس زمین کو فنانسنگ کے مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اس مدت کے اندر تعمیر نہ ہونے کی صورت میں زمین واپس لے لی جائے گی اور ادا کردہ قیمت واپس کردی جائے گی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے جائیداد کی خرید و فروخت، اس کی تقسیم اور تقسیم کے ذریعے تصرف پر پابندی اٹھانے کی بھی ہدایت کردی۔
عمارت کے اجازت نامے جاری کرنا اور ریاض شہر کے شمال میں واقع اراضی کے لیے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اراضی کی کی سرحد کنگ خالد روڈ اور شہزادہ محمد بن سعد بن عبدالعزیز روڈ کی توسیع تک مغرب میں ہے، شہزادہ سعود بن عبداللہ بن جلاوی روڈ تک جنوب میں ہے اور اسماء بنت مالک روڈ تک شمال میں ہے۔ اس کے مشرق میں العرید محلہ ہے جس کا رقبہ 17 مربع کلومیٹر ہے۔ اسی طرح شاہ سلمان روڈ کے شمال میں بھی زمین ہےجس کی سرحد مشرق میں ابوبکر الصدیق روڈ اور العارض محلے سے ملتی ہے۔ شمال میں شہزادہ خالد بن بندر روڈ ہے۔ اس کے مغرب میں القیروان محلہ ہے۔ اس کا رقبہ 16.2 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ زمینیں ان دو علاقوں کے علاوہ ہے جن کی خریدو و فروخت پر پابندی حال ہی میں اٹھائی گئی تھی۔ ان دو علاقوں کا رقبہ 48.28 مربع کلومیٹر ہے۔ اس طرح ریاض شہر میں اٹھائی گئی معطلی کا کل رقبہ 81.48 مربع کلومیٹر ہوگیا ہے۔
مزید برآں انہوں نے حکم دیا کہ وائٹ لینڈ فیس کے نظام میں مجوزہ ترامیم کو 60 دن سے زیادہ کی مدت میں فوری طور پر جاری کرنے کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں۔ رئیل اسٹیٹ کی فراہمی میں اضافہ کو یقینی بنانے کے لیے، مکان مالکان اور کرایہ داروں کے درمیان تعلقات کو اس طرح کنٹرول کیا جائے کہ یہ پروسیس 90 دن سے زیادہ نہ ہو۔
-
سوڈانی فوجی سربراہ کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات
سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ...
بين الاقوامى -
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بیعت کے آٹھ سال مکمل
اس موقع پر سعودی شہریوں کو اپنے ملک کے ’’ویژن 2030 ‘‘ کی اہم کامیابیوں کو یاد کرنے ...
ایڈیٹر کی پسند -
امریکہ کا "یوکرین جنگ" مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر سعودی ولی عہد سے اظہار تشکر
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سہولت ...
بين الاقوامى