ایک بھارتی حکومتی اہلکار نے جمعرات کو کہا کہ بھارت امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر تیزی سے آگے بڑھنا چاہتا ہے جبکہ چین پر محصولات میں اضافہ کر رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درجنوں ممالک پر بھاری باہمی محصولات کو روکنے کا ایک اچانک اور غیر متوقع فیصلہ کیا ہے جس کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
بھارت اور امریکہ نے فروری میں ایک تجارتی معاہدے کے ابتدائی مرحلے پر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا جو 2025 کے موسمِ خزاں تک مکمل ہو جائے گا۔ اس کا مقصد 2030 تک 500 بلین ڈالر کی دو طرفہ تجارت تک پہنچنا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اہلکار نے بتایا، "باہمی ٹیرف پر 90 دن کا وقفہ بھارت کے اور خاص طور پر جھینگوں کے برآمد کنندگان کے لیے ایک راحت ہے۔ بھارت ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے امریکہ سے ایک معاہدے پر گفتگو شروع کی ہے اور اسے انجام تک پہنچانے کے لیے ایک ڈیڈلائن پر باہمی اتفاق کیا ہے۔"
عہدیدار نے مزید کہا کہ عالمی برآمدات اور تجارتی حرکیات کا انحصار امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ پر رہے گا۔
امریکہ سے مذاکرات کی قیادت کرنے والی بھارتی وزارتِ تجارت نے تبصرہ کے لیے ای میل کا فوری جواب نہیں دیا۔
بھاری محصولات عائد کرنے کے صرف 24 گھنٹے بعد بدھ کے روز ٹرمپ نے عارضی طور پر بھارت سمیت دیگر تجارتی شراکت داروں پر ڈیوٹی کم کر دی۔ محصولات کا یہ اعلان مالیاتی منڈی میں نقصان کا باعث بنا جو کووڈ-19 وبائی امراض کے ابتدائی دنوں کے بعد سے شدید ترین نقصان تھا۔
تاہم چین پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چین سے درآمدات پر ٹیرف 125 فیصد تک بڑھا دیں گے۔ لیکن بھارت پر امریکہ کا باہمی ٹیرف 10 فیصد ہے۔