ثقافتی شناخت کا اظہار، سعودی عرب نے عربی کے دو نئے فونٹس متعارف کرا دیے
دو نئے ٹائپوگرافک فونٹس ایک معیاری قدم ہیں جو متاثر کن عربی خطاطی کی روح کو زندہ کر رہے ہیں
سعودی وزارت ثقافت نے دو نئے ٹائپوگرافک فونٹس متعارف کرائے ہیں جن کا نام "The First Font" اور "The Saudi Font" ہے۔ یہ ایک منفرد قدم ہے جس کا مقصد عربی خطاطی کی روح کو زندہ کرنا ہے۔ یہ نئے فونٹس قدیم ترین نوشتہ جات اور قرآن کریم سے متاثر ہیں۔ یہ ڈیجیٹل دور میں سعودی عرب کی موجودگی کو وسعت دے رہے ہیں۔ یہ اقدام سعودی عرب کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے اہداف کے تحت عربی زبان، فنون اور ثقافت کو فروغ دے رہا ہے۔
ان دونوں فونٹس کی نشوونما قدیم چٹانوں کے نقش و نگار اور ابتدائی اسلامی نسخوں کے پیچیدہ سائنسی مطالعہ پر مبنی تھی۔ یہ فونٹس تحریر کے قواعد اور عربی رسم الخط کے جمالیاتی ڈھانچے کے تجزیے پر مبنی ہیں۔ ان فونٹس کا انداز پہلی صدی ہجری میں نمودار ہوا تھا۔ یہ فونٹس محققین اور ڈیزائنرز کو لکھنے کے نئے قواعد وضع کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
الخط الأول؛ محاكاة للأشكال الأصلية لأقدم النقوش في الجزيرة العربية. #الخط_السعودي#وزارة_الثقافة
— وزارة الثقافة (@MOCSaudi) April 16, 2025
’’ دا فرسٹ فونٹ‘‘ اپنے ابتدائی دنوں میں عربی خطاطی کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔ قرآنی نوشتوں سے اخذ کردہ یہ فونٹ اصل کردار کو محفوظ رکھتا ہے۔ دوسری طرف " دا سعودی فونٹ" مملکت کے نام کے حامل ایک جدید نقطہ نظر کو مجسم کر رہا ہے۔ یہ فونٹ ایک لچکدار ماڈل کے طور پر کام کرتا ہے اور قومی ضروریات اور جدید ایپلی کیشنز کے معیار پر پورا اترتا ہے۔
يأتي إطلاق #وزارة_الثقافة للخط الأول و #الخط_السعودي من منطلق إيمانها بأهمية الخط العربي، ودوره في تشكيل الهوية الثقافية الوطنية.
— وزارة الثقافة (@MOCSaudi) April 16, 2025
للمزيد:https://t.co/wpi46rUdKa pic.twitter.com/tWzgfLMrP6
دونوں فونٹس کو پیشہ ورانہ ڈیزائن کے معیارات کے مطابق ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ اس میں حروف کے طول و عرض کی وضاحت، نقاط، نقطے اور اوقاف کے نشانات شامل کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں 100 ملین سے زیادہ صارفین کی جانب سے متعدد پلیٹ فارمز پر ان فونٹس کو استعمال کے قابل بنایا گیا ہے۔
یہ منصوبہ بین الاقوامی کتب خانوں میں محفوظ قدیم نوشتہ جات اور قرآنی نسخوں سے متاثر تھا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع چٹانوں پر نقش و نگار اور تجزیوں نے بصری شناخت اور تحریری انداز میں حیرت انگیز مماثلتوں کا انکشاف کیا ہے۔