بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دو روزہ دورے پر منگل کے روز سعودی عرب پہنچیں گے
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی منگل کو سعودی عرب کے دورے پر پہنچیں گے۔ ان کے اس تیسرے دورہ سعودی عرب کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تذویراتی معاہدات کی مضبوطی ، خصوصا توانائی سے متعلق دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
اپنے دو روزہ دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم مودی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ جدہ میں ملاقات کریں گے۔ نیز دو طرفہ مذاکرات کے لیے سٹریٹجک کونسل کی دونوں رہنما مشترکہ طور پر صدارت کریں گے۔ بھارتی رہنما کا یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب بھارت میں مسلم اوقاف سے متعلق قانون میں ترمیم کے حوالے سے بھارتی مسلمانوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔
تاہم بھارت کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کے پس منظر میں یہ دورہ دونوں ملکوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کی اہمیت کے پیش نظر ایک پریس بریفنگ میں کہا سعودی عرب مسلم دنیا کی ایک موثر آواز ہے۔ جبکہ علاقے کی سطح پر بھی اس کا کردار زیادہ اہم ہوچکا ہے۔
نریندر مودی اس سے قبل بطور وزیر اعظم 2016 اور 2019 میں سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں۔ 2019 اکتوبر سے دونوں ملکوں نے اپنے تعلقات کو سٹریٹجک نوعیت دے دی ہے۔ اس سلسلے میں ایک سٹریٹجک پارٹنر شپ کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے ۔ جس کا اجلاس اس دورے کے دوران بھی شیڈول کا حصہ ہے۔
یاد رہے وکرم مسری کے مطابق 2023 اور 2024 کے درمیان سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تجارتی حجم 43 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یوں بھارت سعودی عرب کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔ جبکہ سعودی عرب بھارت کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا بھارت ان تعلقات میں مزید اضافے کا خواہش مند ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری خارجہ نے کہا سال 2023 اور 2024 کے درمیان صرف توانائی کے شعبے میں بھارت اور سعودی عرب میں تجارتی حجم 25 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا نریندر مودی کا منگل سے ہونے والا سعودی دورہ گروپ 20 کی حالیہ کانفرنس کا 'فالو اپ' ہے۔ جس میں دنیا کی بڑی معیشتوں نے باہمی اقتصادی روابط کو بڑھانے کے لیے اتفاق کیا تھا۔اسی دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ بھی اہم رہا ہے۔ جب سعودی عرب نے بھارت میں ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔
ان اقدامات نے سعودی عرب کو بھارت کا خلیجی ممالک میں سب سے اہم شراکت دار ملک بنا دیا ہے۔ خطے کی موجودہ صورت حال میں بھی بھارتی وزیر اعظم کے سعودی عرب کے دورے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔
دونوں ملک اس تناظر میں بھی خصوصی طور پر دو طرفہ تعاون اور منصوبوں پر فوکس کیے ہوئے ہیں جو سعودی عرب کے ویژن 2030 اور بھارت کے وکسٹ بھارت 2048 کے لیے اہم انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
-
جنیوا بین الاقوامی نمائش میں 'گرینڈ پرائز' جیتنے والا سعودی موجد کون ہے ؟
سعودی عرب میں المجمعہ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے موجد ڈاکٹر سعد العنزی نے 2025 ...
مشرق وسطی -
گیارہویں سعودی فلم فیسٹیول کا آغاز: سنیما، ثقافت، اور ستاروں سے مزیّن ایک شب
سعودی فلم فیسٹیول کے 11ویں ایڈیشن کے لیے جمعرات کو ریڈ کارپٹ بچھایا گیا۔ اس فلمی ...
بين الاقوامى -
بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور ازبکستان میں مفاہمت
سعودی عرب اور ازبکستان نے بین الاقوامی بدعنوانی سے نمٹنے، باہمی تعاون کو بڑھانے، ...
بين الاقوامى