سعودی عرب اور بھارت نے "سعودی-بھارتی تزویراتی شراکت داری کونسل" کو توسیع دے کر چار وزارتی کمیٹیوں تک بڑھانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو گہرا بنانے کی عکاس ہے۔ اس توسیع میں دفاعی تعاون کے لیے ایک وزارتی کمیٹی اور سیاحت و ثقافت کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک اور وزارتی کمیٹی کا اضافہ شامل ہے۔
دونوں ممالک نے بین الاقوامی تنظیموں اور فورمز میں تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر اتفاق کیا، جن میں "جی 20"، "بین الاقوامی مالیاتی فنڈ" اور "عالمی بینک" شامل ہیں۔ اس کا مقصد عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ یہ بات اس مشترکہ بیان میں کہی گئی جو بھارت کے وزیر اعظم کے سعودی عرب کے دورے کے اختتام پر جاری کیا گیا۔ یہ دورہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر کیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق یہ وزیر اعظم نریندر مودی کا سعودی عرب کا تیسرا دورہ تھا، جو ستمبر 2023 میں شہزادہ محمد بن سلمان کے بھارت کے تاریخی سرکاری دورے کے بعد عمل میں آیا۔ شہزادہ محمد "جی 20" سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت گئے تھے اور انھوں نے "سعودی-بھارتی تزویراتی شراکت داری کونسل" کے پہلے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی تھی۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے جدہ کے قصر السلام میں وزیر اعظم نریندر مودی کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے رسمی مذاکرات کیے جن میں سعودی عرب اور بھارت کے درمیان مضبوط دوستی کے تعلقات اور دونوں دوست عوام کے درمیان قریبی روابط کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ سعودی عرب اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد اس تزویراتی شراکت داری سے مزید مضبوط ہوئی ہے جو دفاع، سلامتی، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، زراعت، ثقافت، صحت، تعلیم اور عوامی روابط جیسے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔ اس دوران علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں دونوں ممالک کی دل چسپی مشترک ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی عرب کی طرف سے 2030 کے ایکسپو کی میزبانی اور 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد کی کامیاب بولی پر مبارک باد دی۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینے کے طریقوں پر تعمیری بات چیت کی، اور "سعودی-بھارتی تزویراتی شراکت داری کونسل" کے دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت بھی کی۔
1 – سعودی بھارتی تزویراتی شراکت داری کونسل
دونوں ممالک نے ستمبر 2023 کے بعد سے شراکت میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دو نئی وزارتی کمیٹیوں (دفاع، سیاحت و ثقافت) کے اضافے کے ساتھ شراکت کو وسعت دی گئی ہے، جو تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔
2 – متبادل اعتماد اور مفاہمت
اعلیٰ سطحی دوروں نے باہمی اعتماد کو فروغ دیا۔ بھارت نے سعودی عرب میں مقیم 27 لاکھ بھارتی شہریوں کی میزبانی اور حج 2024 کے انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی ترقیاتی ویژن (سعودی وژن 2030 اور بھارتی وژن 2047) کی تعریف کی۔
3 – دونوں ملکوں کے بیچ سرماریہ کاری کا بہاؤ
سرمایہ کاری کے لیے قائم ہائی لیول ورکنگ گروپ نے توانائی، ٹیکنالوجی، ادویات، صحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کا بھارت میں دفتر کھولا گیا۔ دونوں ممالک نے سرمایہ کاری معاہدے کو جلد مکمل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
4 – سعودی بھارتی سرمایہ کاری فورم
سرمایہ کاری کے شعبے میں براہِ راست اور بالواسطہ شراکت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ نئی دہلی میں ستمبر 2023 میں منعقدہ فورم کی کامیابی کو سراہا گیا۔ اسٹارٹ اپس اور پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت کو اہم قرار دیا گیا۔
5 – تیل کی عالمی منڈیوں کا استحکام
دونوں ممالک نے تیل کی عالمی منڈی میں استحکام، توانائی تحفظ، اور تعاون کے دیگر شعبوں جیسے قابلِ تجدید توانائی، بجلی کی ترسیل، ہائیڈروجن ایندھن، اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیز پر تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔
6 – ماحولیاتی معاہدوں پر عمل درآمد
ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ اور پیرس معاہدے کی حمایت کی گئی۔ سعودی عرب کی سبز مہموں اور بھارت کی شمسی توانائی و پائے دار طرزِ زندگی کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ کاربن سرکلر اکانومی میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
7 – دو طرفہ تجارت
بھارت سعودی عرب کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار اور سعودی عرب بھارت کا پانچواں بڑا ہے تجارتی شراکت داری ہے۔ تجارتی وفود اور تقریبات کے ذریعے تجارت کو بڑھانے کا عزم کیا گیا۔ خلیج تعاون کونسل اور بھارت کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت پر زور دیا گیا۔
8 – امن اور استحکام کی مضبوطی
دفاعی شراکت کو تزویراتی شراکت داری کا ستون قرار دیا گیا۔ مشترکہ مشقوں اور عسکری اجلاسوں کو سراہا گیا۔ دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ سائبر سیکیورٹی، منشیات کی روک تھام، سمندری حدود کی حفاظت اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو سراہا گیا۔ پاهلگام حملے کی شدید مذمت کی گئی اور ہر قسم کی دہشت گردی کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا گیا۔
9 – صحت کے شعبے میں قائم تعاون
صحت کے میدان میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط، اینٹی بایوٹک مزاحمت پر بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی، اور بھارتی دواؤں کے رجسٹریشن میں آسانی کو سراہا گیا۔ ڈیجیٹل گورننس، اسپیس ٹیکنالوجی، اور ابھرتی ٹیکنالوجیز میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
10 – ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون
دونوں ممالک نے گہرے ثقافتی و عوامی روابط کو سراہا اور ثقافت و سیاحت کے لیے وزارتی کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ ثقافتی تبادلوں، میلوں، ورثے، اور سیاحت خصوصاً پائے سیاحت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ میڈیا، تفریح اور کھیلوں میں مواقع کے فروغ کی نشان دہی کی گئی۔ فنون، سینیما، ادب اور ورثے میں موجودہ تعاون کو سراہا گیا، اور کمیٹی کے قیام کو شراکت میں وسعت کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ زراعت، غذائی تحفظ اور کھاد کی تجارت میں طویل المدتی معاہدوں، مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔
11 – تعلیم اور سائنس کے میدان میں تعاون
دونوں ممالک نے تعلیمی و سائنسی تعاون میں بڑھتے ہوئے رجحان کو سراہا اور اسے اختراع، صلاحیت سازی اور پائے دار ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔ سعودی عرب نے مملکت میں ممتاز بھارتی جامعات کی موجودگی کے امکانات کا خیر مقدم کیا۔ دونوں جانب سے افرادی قوت اور محنت کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور مواقع کی تلاش پر بھی زور دیا گیا۔
دونوں ممالک نے ستمبر 2023 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھارت کے دورے کے موقع پر دستخط شدہ "ہند، مشرقِ وسطیٰ و یورپ اکنامک کاریڈور" کی یاد تازہ کی اور اس کی کامیاب تکمیل کے لیے باہمی عزم کا اظہار کیا۔ اس میں ریلوے، بندرگاہوں، ڈیٹا، اور بجلی کی ترسیل کے ذریعے تجارتی روابط کو فروغ دینا شامل ہے۔
اکتوبر 2023 میں دستخط شدہ "بجلی، گرین ہائیڈروجن، اور سپلائی چین رابطے" سے متعلق مفاہمتی یادداشت میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا۔ دونوں ممالک نے بحری تجارت میں اضافے پر بھی اطمینان ظاہر کیا۔
عالمی فورموں جیسے G20، آئی ایم ایف، اور ورلڈ بینک میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ عالمی معاشی چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے 2020 میں سعودی صدارت میں منظور شدہ قرضوں کی ادائیگی مؤخر کرنے کی پہل اور اس سے آگے بڑھ کر قرضوں کے حل کے لیے مشترکہ فریم ورک کے مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔
معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
وزیر اعظم مودی کے دورے میں درج ذیل معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دستخط کی گئیں:
· سعودی خلائی ایجنسی اور بھارتی خلائی ادارے کے درمیان پر امن خلائی سرگرمیوں کے لیے تعاون کی یادداشت
· دونوں ممالک کی وزارتِ صحت کے درمیان طبی شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت
· سعودی پوسٹ اور بھارتی وزارتِ ڈاک کے درمیان بین الاقوامی پارسل سروسز پر معاہدہ
· انسدادِ منشیات کے حوالے سے سعودی اور بھارتی اداروں کے درمیان شعور و آگاہی کے تعاون کی یادداشت
مزید برآں، دونوں فریقین نے "سعودی-بھارت تزویراتی شراکت داری کونسل" کا آئندہ اجلاس جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے یمن کے مسئلے کے جامع سیاسی حل کی حمایت کی۔ بھارت نے سعودی عرب کی کوششوں اور امدادی اقدامات کو سراہا۔ سعودی عرب نے بھارت کی انسانی امداد پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں ممالک نے بحری راستوں کی سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے کے لیے تعاون پر بھی زور دیا۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے شہزادہ محمد بن سلمان اور وفد کی جانب سے پُر تپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور سعودی عوام کے لیے ترقی کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے جواب میں ولی عہد نے بھارتی قیادت اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
-
سعودی عرب : بھارتی وزیر اعظم کی سرکاری دورے پر جدہ آمد
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ...
بين الاقوامى -
سعودی ولی عہد اور بھارتی وزیر اعظم کی صدارت میں تزویراتی شراکت داری کونسل کا اجلاس
جدہ میں 'سعودی - بھارتی تزویراتی شراکت داری کونسل' کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی ...
مشرق وسطی -
امریکی نائب صدر وینس کی بھارت آمد
مودی سے ملاقات کریں گے، اقتصادی تعلقات میں پیش رفت کی امید
بين الاقوامى