بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں شہریوں پر کئی برسوں کے مہلک ترین حملے میں زندہ بچ جانے والوں نے حملے کی تفصیلات بتائیں کہ کس طرح مسلح باغیوں نے اچانک جنگل سے نکل کر تعطیلات منانے والوں کو خودکار ہتھیاروں سے بھون دیا۔
اس حملے میں 26 افراد کی ہلاکت سے بھارت مشتعل ہے اور نئی دہلی نے ہمسایہ ملک پاکستان پر "سرحد پار دہشت گردی" کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔
پاکستان نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
عینی شاہدین کے بیان کردہ واقعات اور بھارتی میڈیا کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک بخوبی طے شدہ اور ہدفی حملہ تھا جس کا مقصد نئی دہلی کو ایک وحشیانہ پیغام بھیجنا تھا۔
تعطیلات منانے والے افراد منگل کو بھارت کے نشیبی میدانی علاقوں کی تیز گرمی سے دور وادی بیسران کے پرسکون میدانوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
مقبول سیاحتی مقام پہلگام شہر کے قریب برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔
باغی خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے ہوئے دیودار کے جنگلات سے اچانک برآمد ہوئے۔
بھارتی میڈیا نے بتایا کہ مسلح افراد نے اپنے حملے کی ریکارڈنگ کے لیے باڈی کیمرے پہن رکھے تھے۔
حملہ آوروں - جن کی شناخت بھارتی پولیس نے دو پاکستانی شہریوں اور ایک بھارتی کے طور پر کی - نے مردوں کو عورتوں اور بچوں سے الگ کر دیا۔
ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے "بہت واضح طور پر خواتین کو چھوڑ دیا اور مردوں پر گولی چلاتے رہے۔"
ایک خاتون نے بتایا کہ جب باغیوں نے ان کے شوہر کو ان کی نگاہوں کے سامنے قتل کر دیا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ انہیں بھی قتل کر دیں۔
پلاوی نامی خاتون نے کہا کہ آدمیوں نے انہیں بتایا کہ انہوں نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو پیغام بھیجنے کے لیے انہیں زندہ چھوڑ دیا۔
پلاوی نے اکنامک ٹائمز کو بتایا کہ باغیوں نے کہا، "جاؤ مودی کو بتاؤ۔"
کچھ زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے لوگوں کا مذہب پوچھا اور مطالبہ کیا کہ وہ کلمۂ طیبہ پڑھیں۔
ہلاک شدگان میں سے ایک کے کزن نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ان کے کزن کے سر میں گولی مارنے سے پہلے پوچھا، کیا وہ مسلمان ہے لیکن ان کی بیوی کو چھوڑ دیا۔
شبھم دویدی کے کزن نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا، "انہوں نے بندوق کی طرف اشارہ کیا۔۔ اور کہا، 'جاؤ، اپنی حکومت کو بتاؤ کہ ہم نے کیا کیا ہے۔"
دیگر زندہ بچ جانے والوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ اگر ایمرجنسی ردِ عمل تیز ہوتا تو گولیوں سے زخمی ہونے والوں میں سے بعض کی جانیں بچ جاتیں جو مکمل طور پر ہلاک نہیں ہوئے تھے۔
شیتل کلاتھیا جن کے شوہر کو قتل کر دیا گیا، نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس نے انہیں "توڑ کر رکھ" دیا۔
انہوں نے ہندوستان ٹائمز اخبار کو بتایا، "ہمارے لیے سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ وہاں ایک بھی سکیورٹی اہلکار موجود نہ تھا۔ اگر وہ جانتے تھے کہ اس جگہ پر ایسے خطرات موجود تھے تو انہیں وہاں کسی کو جانے ہی نہیں دینا چاہیے تھا۔"