بھارتی اعلان سے پاک بھارت شہریوں کی آمدو رفت بند، خاندان ملاقات سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بھارت کے حالیہ آنا ًفانا ً کیے گئے اعلانات اور کشیدگی بڑھانےوالے اقدامات کے نتیجے میں خاندانوں کے خاندان باہم ملاقات سے قاصر ہو گئے ہیں۔ بھارتی اعلان کے متاثرہ ان خاندانوں میں سے ایک خاندان بھارت کے کاروباری رشی کمار جسرانی کا ہے۔

رشی کمار جسرانی دو دنوں سے سامان سے بھرے سوٹ کیس اٹھائے پاک بھارت سرحد کے پاس موجود ہیں۔ انہیں اب بھی امید ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے پاس جا سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیوی بچوں کے پاس بھارتی پاسپورت ہے اس لیے انہیں واپس بھارت آنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس سوال پر کہ انہیں اس سلسلے میں بھارت کی طرف سے کچھ مشورہ یا تسلی دی گئی ہے۔ رشی کمار جسرانی کا جواب نفی میں تھا۔

رشی کمار جسرانی نے کہا ' ہم کس طرح ماں کو بچوں سے الگ رکھ سکتے ہیں۔ ؟ بلا شبہ اسے اس سوال کا جواب چاہیے ۔ لیکن بھارت سرکار نے پہلگام کے واقعے پر جس طرح کے اقدامات مکمل عجلت کے ساتھ کیے ہیں اس سے صاف لگتا ہے کہ سرکار نے اس پہلو کو مکمل نظر انداز کیا ہے۔

بھارت سرکار کے ان عاجلانہ اقدامات کے بعد سے دوطرفہ کشیدگی اچانک آسمان کو چھونے لگی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہونے لگی ہے۔ آشہریوں کی آمدو رفت کو روک دیا ہے۔ پاکستان کئ ساتھ سندھ طاس معاہدے پر عمل معطل کر دیا گیاہے اور سفارتی عملے میں کمی کر دی گئی ہے۔

جذباتی الوداعی ملاقاتیں

بھارت کا 41 سالہ شہری انیس محمود اپنی 76سالہ خالہ شہر بانوکو 29 اپریل کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے پہلے سرحد عبور کرانا چاہتا ہے۔ وہ بوڑھی اور کمزور ہیں۔ اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے بھارت آئی تھیں لیکن اب انہیں اچانک واپس جانا ہے۔ یہ ایک جذباتی صورت حال بن گئی ہے کہ ہم انہیں جیسے زبردستی واپس بھیج رہے ہیں۔ ہم نہیں جانتے دوبارہ مل سکیں گے یا نہیں۔

پاک بھارت سرحد پر تکلیف دہ مناظر ہیں۔ جس طرح کے مناظر 1947 میں پیدا ہوئے تھے اور دونوں طرف سے لاکھوں لوگوں کو سرحد پار جانا تھا، اپنے ہیاروں کو چھوڑ کر اور پھر کبھی نہ مل سکنے کے خوف کے ساتھ۔

اب پھر دونوں طرف کے رہنے والے ان شہریوں کو سخت کرب سے گذرنا ہے جن کے رشتہ دار دونوں طرف رہتے ہیں۔ اسی کا اظہار رشی کمار جسرانی نے کیا کہ ان کی 35 سالہ اہلیہ سویتا کماری ہے کے پاس بھارت کا طویل مدت کے لیے ویزہ ہے۔ مگر ویزہ ہی تو ہے۔

درمیان میں ہی پکڑے گئے !

بھارتی وکرم اداسی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ ان کی اہلیہ پاکستانی شہری ہیں۔ 37 سالہ ڈاکٹر وکرم اداسی نے کہا ' میں اور میری بیوی دونوں نے یہ اعلان سنتے ہی بارڈر کی طرف دوڑ لگا دی ۔لیکن اس کے باوجود ہم لیٹ ہو گئے ۔

میری اہلیہ چار سالہ بیٹے کے ساتھ اپنی والدہ سے ملنے گئی تھی۔ وہ جمعہ کے روز سے سرحد پار کرنے کی کوشش میں ہے۔ لیکن انہیں واپس آنا مشکل لگ رہا ہے۔ وہ عملاً دوسری جانب پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ہم سے بس ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ، مگر وہ ادھر ہیں اور ہم ادھر ہیں۔ان کا کہنا ہے دو حکومتوں کے درمیان کیا معاملہ ہے۔ وہ حکومتوں کو طے کرنا چاہیے عام لوگوں کو اس تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہیے۔ ہم تو درمیان میں پھنس گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں