روس نے ماسکو کے قریب فوجی جنرل کے قتل کا الزام یوکرینی انٹیلی جنس پر عاید کردیا

روس نے ماسکو کے قریب فوجی جنرل کے قتل کا الزام یوکرینی انٹیلی جنس پر عاید کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس نے جمعہ کے روز یوکرینی انٹیلی جنس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس بم حملے کے پیچھے ہے جس میں ماسکو کے قریب ایک روسی جنرل کی ہلاکت ہوئی تھی، کیونکہ اس طرح کے حملوں میں پچھلے تین برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک بیان میں کہاکہ "اس بات پر یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ یوکرینی انٹیلی جنس اس ’جرم‘ میں ملوث تھی"۔

قابل ذکر ہے کہ جنرل یاروسلاو موسکالک جو روسی جنرل اسٹاف کا رکن تھا کو حال ہی میں ماسکو میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

گھر کے قریب کھڑی گاڑی میں دھماکہ

ماسکو کے بالشیخا ضلع میں ایک کار بم دھماکہ ہوا جس میں 59 سالہ موسکلیک ہلاک ہو گیا۔

سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو بھی گھیرے میں لے لیا، تفتیش کار اور فرانزک ماہرین جائے وقوعہ پر پہنچے۔

ایمرجنسی کمیٹی نے اعلان کیا کہ کار میں دھماکہ ایک نصب شدہ دھماکہ خیز مواد سے ہوا۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے وضاحت کی کہ جنرل اس وقت مارا گیا جب وہ اپنے گھر کے قریب کھڑی ووکس ویگن کے پاس سے گزر رہا تھا جس میں ایک دھماکہ خیز موجود تھا جس کا وزن 300 گرام تھا۔

وٹکوف کا دورہ اور روسی حملے

یہ واقعہ یوکرین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں پیش رفت کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹ کوف کے ماسکو کے دورے کے موقع پر پیش آیا۔

گذشتہ دو دنوں کے دوران دارالحکومت کیئف اور یوکرین کے دیگر علاقوں پر وسیع پیمانے پر روسی حملے دیکھے گئے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین کو غیر مشروط جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں