فرانس کی پولیس ہفتہ کے روز اس مشتبہ ملزم کو تلاش کرنے کی کوشش میں تھی جس نے فرانس کے جنوبی علاقے میں مسجد کے اندر ایک قتل کی فلم لگائی اور اسلام کے خلاف چیختے ہوئے توین آمیز کلمات کہے۔
'مسلمان نمازی کو مسجد میں جمعہ کے روز صبح سویرے چاقو سے قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ فرانس کے شہر لا گرینڈ کومبے میں ایک گاؤں کی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ان کا قاتل ابھی تلاش کیا جا رہا ہے۔' یہ بات ریجنل پراسیکیوٹر فرانس عبدالکریم گرینی نے 'اے ایف پی' کو بتائی ہے۔
انہوں نے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا 'اس قتل کا مقصد ابھی واضح نہیں ہے۔ تاہم سیکیورٹی کیمروں کی مدد سے بنائی گئی فوٹیج سے اندازہ ہوتا ہے کہ قاتل مبینہ طور پر اللہ کے لکھے ہوئے نام اور عربی زبان میں لکھی ہوئی عبارات کو توہین کا نشانہ بناتا رہا ہے۔
اس مشتبہ شخص نے اپنے موبائل فون سے ویڈیو بنائی جس میں قتل کیے گئے شخص کو بھی دکھایا گیا ہے۔
ایک ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور اس شخص کی شناخت بوسنیائی نژاد فرانسیسی شہری کے طور پر ہوئی ہے۔
پراسیکیوٹر گرینی نے کہا ہے کہ مشتبہ شخص کی سرگرمیوں کے ذریعے اس کی تلاش جاری ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مسلمان نمازی کے قتل کے واقعے کے وقت مسجد میں کوئی اور نہیں تھا۔ قتل کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب جمعہ کی نماز کے لیے نمازی مسجد آئے۔
-
یوکرین غیرمشروط طور پر جنگ بندی کے لیے تیار ہے، فرانسیسی صدر میکروں
فرانس کے صدر عمانویل میکروں نے ہفتہ کے روز کہا ہے کہ ایک بہت مثبت تبادلہ خیال ...
بين الاقوامى -
فرانس کی طرف سے 115 فلسطینیوں کو غزہ سے انخلاء میں مدد
فرانس کی وزارت خارجہ نے ایک سو پندرہ افراد کو صرف اسی ہفتے کے دوران غزہ سے نکلنے ...
مشرق وسطی -
پوپ فرانسس کی آخری رسومات جاری؛ عالمی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کی شرکت
پوپ فرانسس نے ویٹیکن سٹی میں دفن نہ ہونے کا انتخاب کر کے ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ...
بين الاقوامى