اٹلی کے دار الحکومت روم میں آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادی میر زیلنسکی کے درمیان ایک مختصر ملاقات ہوئی۔ یاد رہے کہ دونوں سربراہان کے درمیان آخری ملاقات تقریباً دو ماہ پہلے وائٹ ہاؤس میں ہوئی تھی۔ اس طوفانی ملاقات میں ٹرمپ نے زیلنسکی کی سخت سرزنش کی تھی۔
آج ہفتے کے روز دونوں صدور نے پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے موقع پر ملاقات کی۔ یوکرینی صدر کے ترجمان سرگئی نیکیفوروف نے صحافیوں کو بتایا کہ "ملاقات ہوئی اور ختم ہو گئی"۔ تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ زیلنسکی اور ٹرمپ نے پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے موقع پر ایک دوسرا اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔ بات چیت تقریباً 15 منٹ تک جاری رہا۔
یوکرینی صدارتی دفتر نے دونوں صدور کی انفرادی ملاقات کی تصاویر بھی جاری کیں۔ ان میں وہ فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ بھی نظر آ رہے ہیں۔
بہت مفید بات چیت
ادھر وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ملاقات میں "بہت مفید بات چیت" ہوئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گذشتہ روز ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ یوکرین اور روس کے درمیان معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ فریقین زیادہ تر اہم نکات پر متفق ہو چکے ہیں۔
یہ سب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل زیلنسکی نے ایک امریکی امن منصوبے کو مسترد کر دیا تھا، جس میں کئی شرائط شامل تھیں۔ ان میں 2014 سے روس کے زیر قبضہ جزیرہ نما کریمیا کو روس کے حوالے کرنا بھی شامل تھا۔
زیلنسکی کے اس انکار نے ٹرمپ کو ناراض کر دیا تھا۔ امریکی صدر نے یوکرینی ہم منصب کے بیان کو "اشتعال انگیز" قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ امن عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب، ماسکو نے مذکورہ امریکی تجویز کا خیر مقدم کیا تھا۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اس منصوبے کا مزید مطالعہ اور بعض نکات کی وضاحت کی ضرورت ہے۔
ادھر حالیہ اطلاعات کے مطابق کئیف نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں اس نے اپنی سخت زبان اور موقف میں نرمی پیدا کی ہے۔ تجویز میں روس کے زیر قبضہ بعض علاقوں سے دست برداری اور نیٹو میں شمولیت کے خواب کو ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ یوکرینی فوج کو مضبوط کیا جائے اور امریکی یا یورپی افواج کو ملک میں تعینات کیا جائے۔
-
"ایران روسی کمپنیوں کے ساتھ چار بلین ڈالر کے آئل فیلڈ معاہدے پر دستخط کرے گا"
ایرانی وزیر برائے پٹرولیم محسن پاک نژاد نے جمعہ کے روز سرکاری ٹی وی پر کہا ہے کہ ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب: 2024 میں سکیورٹی سروسز پر 99 فیصد اعتماد
92 فیصد سکور کے ساتھ سعودی عرب سکیورٹی اشاریوں میں جی 20 ملکوں میں سرفہرست
بين الاقوامى -
روس نے ماسکو کے قریب فوجی جنرل کے قتل کا الزام یوکرینی انٹیلی جنس پر عاید کردیا
روس نے ماسکو کے قریب فوجی جنرل کے قتل کا الزام یوکرینی انٹیلی جنس پر عاید کردیا
بين الاقوامى