اسرائیلی وزیر دفاع کا عالمی فوجداری عدالت کی غزہ پر سماعت کے موقع پر واویلا

غزہ کے حوالے سے اسرائیلی انسانی وعدے ، عالمی عدالتِ انصاف نے سماعت کا آغاز کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت کی غزہ کے لیے انسانی امداد سے متعلق سماعت ان کے ملک کے خلاف ایک "منظم ظلم و ستم اور اسے غیر قانونی قرار دینے" کی کوشش کا حصہ ہے۔

براہِ راست بریفنگ میں وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے کہا، عدالت "مکمل طور پر سیاست زدہ ہوتی جا رہی ہے۔" علاوہ ازیں انہوں نے پیر کو دی ہیگ میں ہونے والی کارروائی کو 'شرمناک' قرار دیا۔

مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی شہریوں کو فوری طور پر درکار انسانی امداد کو "یقینی بنانے اور سہولت فراہم کرنے" کے بارے میں اسرائیل کی ذمہ داری پر اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے سماعت شروع کی جس سے غزہ میں جاری تنازعہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

یہ سماعتیں ایک ہفتے تک جاری رہیں گی۔ اسرائیل نے 50 روز سے زیادہ عرصے سے غزہ کی پٹی میں امداد کی فراہمی پر مکمل طور پر پابندی عائد کی ہوئی ہے، جس سے وہاں ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع Gideon Saar
اسرائیلی وزیر دفاع Gideon Saar

اقوام متحدہ کے نمائندے پانچ روز تک آئی سی جے میں سماعتوں کا آغاز کریں گے۔ یہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور یہ ہالینڈ کے شہر ہیگ میں واقع ہے۔ اس سماعت میں 15 ججوں پر مشتمل ایک پینل موجود ہو گا، جس میں فلسطینی فریق سب سے پہلے اپنے دلائل پیش کرے گا۔
اس ہفتے 38 دیگر ممالک اپنے موقف پیش کریں گے، جن میں امریکہ، چین، فرانس، روس، سعودی عرب، عرب لیگ، او آئی سی اور افریقی یونین بھی شامل ہیں۔

عالمی عدالت انصاف
عالمی عدالت انصاف

دسمبر 2023 میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ناروے کی طرف سے پیش کی گئی ایک قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کی تھی۔ قرارداد میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے درخواست کی گئی کہ وہ ایک مشاورتی رائے جاری کرے، جس میں کہا گیا کہ اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور عالمی تنظیموں یا تیسرے ممالک کے تعاون سے مدد فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ فلسطینیوں کے لیے ضروری امداد کی فراہمی بلا تعطل جاری رہ سکے۔

اسرائیل غزہ کی پٹی کے لیے تمام عالمی امدادی ذرائع کو کنٹرول کرتا ہے جو 24 لاکھ فلسطینیوں کی زندگی بچانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اسرائیل نے 2 مارچ کو یہ امداد روک دی تھی، جب کہ جنگ بندی کی کوششیں 15 مہینے کی لڑائی کے بعد بہت زیادہ نازک حالت میں تھیں۔

اقوام متحدہ کے مفوض اعلیٰ، فلپ لازارینی نے جمعہ کے روز اس کو "انسانی ساختہ قحط" اور "سیاسی وجوہات" کے طور پر بیان کیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق، مارچ کے آخر تک، غزہ میں 5 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے تھے، اور اس دوران اسرائیل نے 18 مارچ کو اپنے فضائی اور زمینی حملے دوبارہ شروع کر دیے۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے اسے "غزہ میں شاید سب سے بد ترین" انسانی بحران قرار دیا۔

واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے غیر معمولی حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں 1218 افراد کی ہلاکت ہوئی، جب کہ اسرائیل کے جوابی حملوں میں غزہ میں 52,243 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے اکثریت شہریوں کی ہے۔ گذشتہ ماہ 18 مارچ سے اسرائیل کی جانب سے دوبارہ شروع ہونے والے حملوں میں اب تک کم از کم 2111 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد، اسرائیلی حکام مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ حماس پر فوجی دباؤ ڈال رہے ہیں تا کہ غزہ میں ابھی تک زیر حراست 58 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں آ سکے۔ ان میں 34 وہ ہیں جن کی اسرائیلی فوج ہلاکت کا اعلان کر چکی ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی آراء قانونی طور پر لازمی نہیں ہیں، تاہم یہ اسرائیل پر بڑھتا ہوا سفارتی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ جنوری 2024 میں، آئی سی جے نے اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ کسی بھی نسل کشی کے اقدامات سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دے۔

مارچ 2024 میں، جنوبی افریقہ کی درخواست پر، جس نے اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات لگائے تھے، آئی سی جے نے اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ فلسطینی علاقے میں پھیل رہے "قحط" کے حوالے سے فوری اقدامات کرے۔

آئی سی جے نے جولائی 2023 میں ایک مشاورتی رائے جاری کی تھی، جس میں اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کو "غیر قانونی" قرار دیا تھا اور اسے جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں