برطانیہ نے فلسطین کےحق میں ہونے والےاحتجاج کی تحقیقاتی رپورٹ اسرائیلی سفارتخانےکو بھجوا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی حکومت نے فلسطین کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات اسرائیلی سفارتخانے کو بھجوادی ہیں۔

اس امر کا اظہار برطانوی اخبار 'دی گارڈین' کی منگل کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ جس سے خدشہ ظاہر ہو رہا ہے کہ برطانوی نظام انصاف میں غیر ملکی مداخلت بڑھ رہی ہے۔ جبکہ ماہرین قانونی معاملات میں اسرائیلی حکام کے شامل ہونے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

سال 2024 میں 9 ستمبر کو اٹارنی جنرل کے دفتر کی طرف سے برطانیہ میں اسرائیلی نائب سفیر ڈینیلا گرڈسکی کو ای میل بھیجی گئی تھی۔ ای میل کے مضمون میں 'کاؤنٹر ٹیررازم پولیس' کے رابطے کی تفصیلات موجود تھیں۔

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والے مظاہرین میں سے 10 کو برطانیہ میں قائم اسرائیلی ہتھیاروں کی فیکٹری میں احتجاج کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ نومبر میں مزید 8 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

یہ ای میل 'اے جی او' کے بین الاقوامی قانون کے سربراہ نکول سمتھ نے بھیجی تھی۔

اسرائیلی سفارتخانے کی طرف سے 'اے جی او' کو درخواستوں کے انکشافات برطانوی قانونی مقدمات میں مداخلت کی بار بار کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم 'اے جی او' نے ماضی میں سفارتخانے کی مداخلت کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔

سال 2023 میں 'اے جی او' کے ڈائریکٹر جنرل ڈگلس ولسن نے سفارتخانے کی رد کردہ درخواست کے جواب میں کہا 'کراؤن پراسیکیوشن سروس' استغاثہ کے فیصلے کرتی ہے اور کیس ورک کو آزادانہ طور پر منظم کرتی ہے۔ افسران انفرادی کیس میں مداخلت کرنے یا فعال کارروائی سے متعلق مسائل پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔

بین الاقوامی وکیل اور ماہر تعلیم ڈاکٹر شاہد حمودی نے 'دی گارڈین' کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'اس سے غیر ملکی اثر و رسوخ کی نشاندہی ہوتی ہے۔'

برطانوی دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت حراست میں لیے گئے افراد کو 14 دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ماہ اگست میں گرفتار ہونے والوں کو ابتدائی طور پر 36 گھنٹوں تک بغیر کسی رسائی کے حراست میں رکھا گیا۔ جبکہ انہیں مزید 7 دنوں تک حراست میں رکھا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size