ایرانی عدلیہ کے میڈیا دفتر نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ملک میں ایک اعلیٰ سطح کے اسرائیلی جاسوس کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، محسن لنگر نشین نامی ملزم اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی "موساد" کے لیے میدانی معاون کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس پر تل ابیب کے لیے جاسوسی کا الزام تھا۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ایجنسی "مہر" نے بتائی۔
عدلیہ کے بیان کے مطابق، قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بدھ کی صبح اس سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ملزم کو "محاربہ" (خدا اور ریاست کے خلاف جنگ) اور "زمین میں فساد پھیلانے" کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف تمام قانونی مراحل مکمل کیے گئے، عدالتِ عظمیٰ نے اس فیصلے کی توثیق کی، جس کے بعد بدھ کی صبح اسے پھانسی دے دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، محسن لنگر نشین نے اکتوبر 2019 میں اسرائیلی انٹیلی جنس میں شمولیت اختیار کی اور دسمبر 2019 میں ابتدائی تربیتی مراحل مکمل کرنے کے بعد اپنی پہلی عملی ذمے داریاں ادا کرنا شروع کیں۔
دو سال کے عرصے میں اس نے اسرائیلی اعلیٰ افسران کے ساتھ قریبی تعاون کیا اور کئی اہم مشنوں کو انجام دیا۔ ان میں "عملیاتی معاونت" اور "کرنل صیاد خدائی کے قتل کے مقام پر موجودگی" بھی شامل تھی۔
یاد رہے کہ کرنل حسن صیاد خدائی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا افسر تھا۔ اسے 22 مئی 2022 کو تہران میں اُس کے گھر کے سامنے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے پانچ گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔
-
ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو سزائے موت
محسن لنگرنشین نے الزامات کا اعتراف کر لیا
مشرق وسطی -
انروا کی غیر جانبداری پر 'سنگین تشویش' ہے: امریکہ کا عالمی عدالت میں اسرائیل کا دفاع
اسرائیل کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ انروا کو امداد فراہم کرنے کی اجازت دے
بين الاقوامى -
دمشق میں دروز کو نشانہ بنانے کی تیاری کرنے والے گروپ پر حملہ کیا ہے : اسرائیل
اسرائیلی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے شامی دار الحکومت دمشق کے قریب ...
مشرق وسطی