بدھ کے روز ایک امریکی اہلکار نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کو بتایا، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (انروا) کی غیر جانبداری کے بارے میں "سنگین خدشات" ہیں۔
آئی سی جے کے ججز ایک ہفتے کی سماعت کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں اقوامِ متحدہ کی فلسطینیوں کو امداد پہنچانے والی ایجنسیوں کے حوالے سے اسرائیل کی ذمہ داریوں کے بارے میں مشاورتی رائے مرتب کرنے میں مدد ملے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی قانونی ٹیم سے تعلق رکھنے والے جوش سیمنز نے کہا، "انروا کی غیر جانبداری بشمول ان معلومات کے بارے میں سنگین خدشات ہیں کہ حماس نے انروا کی سہولیات کا استعمال کیا اور اس کے عملے نے سات اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ حملے میں حصہ لیا تھا۔"
تقریباً 40 ممالک اور تنظیمیں جیسے کہ لیگ آف عرب سٹیٹس سماعتوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
اسرائیل آئی سی جے میں حصہ نہیں لے رہا ہے لیکن اس نے عدالت کی سماعتوں کو اپنے ملک کے خلاف "منظم ظلم و ستم اور اسے غیر قانونی قرار دینے" کی کوششوں کے طور پر مسترد کر دیا ہے۔
سیمنز نے کہا کہ اسرائیل کے پاس انروا کی غیر جانبداری پر سوال اٹھانے کے لیے "کافی بنیادیں" موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "ان خدشات کے پیشِ نظر یہ واضح ہے کہ اسرائیل کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ انروا کو خاص طور پر انسانی امداد فراہم کرنے کی اجازت دے۔ انروا غزہ میں انسانی امداد فراہم کرنے کا واحد راستہ نہیں ہے۔"
انروا کی حیثیت سماعتوں میں مرکزی مقام رکھتی ہے۔
انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے منگل کے روز کہا کہ غزہ میں اس کے 50 سے زائد عملے کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور انہیں اسرائیلی فوجی حراست کے دوران انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔
اسرائیل غزہ کی پٹی میں 2.4 ملین فلسطینیوں کے لیے ضروری بین الاقوامی امداد کی تمام آمد کو سختی سے کنٹرول کرتا ہے۔
اس نے دو مارچ کو جنگ بندی کے خاتمے سے چند دن پہلے غزہ کو امداد کی ترسیل روک دی تھی۔
'یہاں فاقہ کشی ہے'
دسمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آئی سی جے سے "ترجیحی بنیادوں پر اور انتہائی عجلت کے ساتھ" مشاورتی رائے طلب کی تھی۔
تاہم ججز کو اپنی رائے قائم کرنے میں کئی ماہ لگنے کا امکان ہے اور بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ وقت ختم ہو رہا ہے۔
ایم ایس ایف کے اہلکار کلیئر نکولٹ نے کہا، "کسی بھی قسم کے قانونی راستے کا انتظار مزید فلسطینیوں کی قابلِ گریز موت کا باعث ہو گا جبکہ دنیا اس اندھا دھند اور گھناؤنے ظلم سے بچنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی اور محض تماشہ دیکھ رہی ہے۔"
پیر کے روز فلسطینی مندوب عمار حجازی نے اسرائیل پر "جنگی ہتھیار" کے طور پر انسانی امداد روکنے کا الزام لگایا۔
حجازی نے مزید کہا، "ہر 10 میں سے نو فلسطینیوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں کی ذخیرہ گاہیں خالی ہیں۔"
انہوں نے کہا، "یہ حقائق ہیں۔ یہاں فاقہ کشی ہے۔"
اگرچہ آئی سی جے کی مشاورتی آراء قانونی طور پر پابند نہیں ہیں لیکن عدالت کا خیال ہے کہ وہ "بڑا قانونی وزن اور اخلاقی اختیار رکھتی ہے"۔
سیمنز نے استدلال کیا، عدالت کو صرف اسرائیل سے متعلق "یک طرفہ" سوال پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا، "اس عدالتی کارروائی میں شناخت کردہ کسی بھی ذمہ داری کی تعمیل کے طور پر یا کسی مبینہ خلاف ورزی کے قانونی نتائج کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں ہونی چاہئے۔"
-
غزہ مذاکرات: قیدیوں کو جلد رہا کیا جائے گا، تین محفوظ راہداریاں قائم ہوں گی
اگرچہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے قاہرہ میں ...
مشرق وسطی -
غزہ سے یرغمالیوں کی واپسی ہماری ترجیح رہے گی : نیتن یاہو
غزہ کی پٹی میں جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ اس دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم ...
مشرق وسطی -
دنیا اسرائیل کو غزہ میں انسانی تباہی کے ایک نئے ارتکاب سے روکے: وولکر ترک
عالمی ادارہ دو ریاستی حل کا طویل عرصے سے خواہاں ہے
مشرق وسطی