غزہ کی پٹی میں جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ اس دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کی حکومت کی پہلی ترجیح غزہ سے یرغمال بنائے گئے افراد کی واپسی ہے۔
آج منگل کے روز "یومِ آزادی" کے موقع پر ایک اجلاس میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوجی 7 اکتوبر سے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ان یرغمالیوں کو واپس لایا جا سکے۔ یہ بیان اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" میں سامنے آیا۔
اس بیان سے چند روز قبل اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر نے خبردار کیا تھا کہ اگر یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے میں پیش رفت نہ ہوئی تو اسرائیل غزہ پر فوجی حملے میں شدت لائے گا۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے غزہ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر جلد پیش رفت نہ ہوئی تو فوجی کارروائیاں مرحلہ وار تیز کی جائیں گی۔
اسی دوران "العربیہ" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مئی میں کچھ یرغمالیوں، بشمول ایک امریکی شہری، کی رہائی پر ابتدائی اتفاق ہو گیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مصری حکام، حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے تین محفوظ راستوں پر بھی اتفاق ہوا ہے، جن کی نگرانی ثالثی ممالک کریں گے۔
اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے کہا کہ صورت حال مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، اور فریقین کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ تاہم ابھی بھی حتمی فیصلہ اسرائیلی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متوقع معاہدہ ایک جامع سمجھوتا ہو گا اور اس کی تفصیلات اب زیادہ دور نہیں ہیں۔ امریکہ بھی حماس پر براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے شدید دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ معاہدہ ممکن ہو سکے۔
مصری سیکیورٹی ذرائع کے مطابق غزہ میں جنگ بندی سے متعلق قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ایک اسرائیلی عہدے دار نے کسی بھی بڑی پیش رفت کی تردید کی ہے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ Axios نے پیر کی شام بتائی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ حماس نے 17 اپریل کو ایک اسرائیلی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس میں 45 روزہ جنگ بندی کے بدلے 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی پیشکش کی گئی تھی۔ حماس نے اس کے بجائے ایک مکمل معاہدہ طلب کیا تھا جس میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، اور تمام یرغمالیوں کی رہائی شامل ہو۔
دوسری طرف، اسرائیل کا اصرار ہے کہ تمام یرغمالیوں کی واپسی اور حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے بدلے میں ہی کوئی جنگ بندی ممکن ہے ... اسرائیل مکمل جنگ بندی یا مکمل انخلا کی حمایت نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ پر اس وقت اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے تھے جب جنوری 2025 میں طے شدہ جنگ بندی کا معاہدہ ناکام ہو گیا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس پر دباؤ جاری رکھے گا تاکہ باقی یرغمالیوں کو رہا کروایا جا سکے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں اب بھی 58 اسرائلی یرغمالی موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کا ماننا ہے کہ ان میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔
-
غزہ میں حماس کے تین نمایاں عہدیدار مار دیے ہیں: اسرائیلی فوج
اسرائیلی عہدیدار نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کے لئے قاہرہ میں ہونے والے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب : بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیلی جنگ کی مذمت
سعودی عرب نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی مذمت کی ہے۔ ...
مشرق وسطی -
برطانیہ نے فلسطین کےحق میں ہونے والےاحتجاج کی تحقیقاتی رپورٹ اسرائیلی سفارتخانےکو بھجوا دی
برطانوی حکومت نے فلسطین کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے سلسلے میں ہونے والی ...
بين الاقوامى