مودی نے متنازع ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کو آزادانہ کاروائیوں کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وزیر اعظم نریندر مودی نے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کو 'آپریشنل فریڈم' دے دیا ہے کہ وہ جب چاہیں، جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں کاروائیاں کر سکتے ہیں۔ نئی دہلی میں موجود حکومتی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ فوج کو یہ اختیار پچھلے ہفتے کے حملے کے سلسلے میں دیا گیا ہے۔ یاد رہے بھارتی حکومت متنازع ریاست جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونی والی 26 ہلاکتوں کا الزام اپنے پڑوسی ملک پاکستان کو دیتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اس بھارتی الزام کی تردید کرتا ہے کہ وہ پہلگام کے واقعے میں ملوث ہے تاہم بھارت نے تحقیقات سے بھی پہلے پاکستان کے خلاف اقدامات شروع کردیئے ہیں اور ان اقدامات میں پاکستان کے ساتھ 1960ء کےآبی معاہدہ کو معطل کرکے پاکستان کا پانی بند کرنا اور سفارتی عملے میں کمی کرنا اور شہریوں کی آمد و رفت کو روکنا اور ویزوں کو منسوخ کردینے کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی پوسٹوں کر نشانہ بنانا شامل ہیں۔ ان بھارتی اقدامات کی وجہ سے دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی فوجیں ہائی الرٹ پوزیشن پر چلی گئی ہیں اور دونوں طرف سے کہا جا رہا ہے کہ جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے۔ ادھر نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی کی آرمی چیف سمیت تمام مسلح افواج کے سرابراہان سے ملاقات کی ویڈیو ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئی جس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی نظر آرہے ہیں۔

بھارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی نے ایک بند کمرے کے اجلاس میں افواج کو یہ اجازت دی ہے کہ انہیں آپریشنز کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور وہ ان آپریشن کے طریقہ کار، اہداف اور وقت کا بھی خود تعین کرسکیں گی۔ مودی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ہمیں دہشتگردی کو ایک قومی حل کے طور پر ختم کرنا ہے۔ حکومت کے جن ذرائع نے اے ایف پی کو یہ بتایا انہوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے متنازع ریاست جموں و کشمیر میں چھ لاکھ کے قریب مسلح افواج کو تعینات کر رکھا ہے۔ یہ افواج 1989ء سے ان کشمیریوں کے خلاف آپریشن شروع کیے ہوئے ہیں جو 1947ء کے تقسیم ہند کے منصوبہ اور اقوام متحدہ کی قراداروں کے مطابق اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن بھارت ان کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

اس حالیہ ایک ہفتہ کے دوران بھارتی سیکورٹی فورسز نے لگ بھگ دو ہزار کے قریب کشمیریوں کو زیر حراست لیا ہے اور جگہ جگہ کریک ڈاؤن جاری ہے جبکہ کئی گھروں کو جلانے، بارود سے اڑانے یا مسمار کرنے کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

مودی نے اس سے قبل اپنے بیان میں زور دے کر کہا تھا کہ بھارت دہشت گردوں کو شناخت کرے گا، ان کے ٹریک کو سامنے لائے گا اور انہیں سخت سزا دے گا نیز ان کے سرپرست کو بھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں