امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان ان جنگجوؤں کی تلاش کے سلسلے میں بھارت کے ساتھ تعاون کرے گا جو پاکستان میں موجود ہیں۔ بھارت کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر میں حالیہ جنگجویانہ حملے کا جواب دینے کا مطلب وسیع تر علاقائی تصادم نہیں ہوگا۔
انہوں نے جمعرات کے روز ان خیالات کا اظہار 'فاکس نیوز' کے ساتھ ایک سپیشل رپورٹ میں کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا 'ہمیں امید ہے کہ بھارت کا اس دہشت گردانہ حملے کے لیے جواب بڑے علاقائی تصادم کا راستہ نہیں کھولے گا اور ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں پاکستان بھارت کے ساتھ پورا تعاون کرے گا کہ بھارت ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا سکے جو گاہے گاہے اس کے علاقے میں کارروائی کرتے ہیں۔
یاد رہے دو دن پہلے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان اور بھارت دونوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بات کرتے ہوئے صورتحال کو تحمل سے ڈیل کرنے کے لیے کہا تھا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی حکومت 22 اپریل کے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس حملے کی مذمت کر چکے ہیں اور اسے ایک ایسا دہشت گردانہ واقعہ قرار دے چکے ہیں جس کے لیے کوئی رعایت نہیں ہو سکتی۔ تاہم امریکی صدر نے بھارت کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان پر کوئی براہ راست الزام نہیں لگایا تھا۔
امریکہ ، چین کو 'کاونٹر' کرنے کے لیے بھارت کو ایک اہم شراکت دار کی طرح دیکھتا ہے۔ تاکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو روکا جا سکے۔ اسی طرح پاکستان بھی واشنگٹن کے لئے کئی پہلوؤں سے اپنی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
حالیہ دنوں میں واشنگٹن نے بھارت و پاکستان دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کام کریں اور مسئلے کا ایک ذمہ دارانہ حل نکالنے کی کوشش کریں۔
بھارت ریاست جموں و کشمیر کے سیاحتی علاقے میں سیاحوں پر حملے کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے۔ جبکہ پاکستان اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دو ٹوک کہہ رہا ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
پاکستان کے اعلیٰ ترین حکام کی طرف سے یہ بھی تسلسل کے ساتھ زور دے کر کہا جا رہا ہے کہ بھارت کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی کوئی اہم غیر ملکی شخصیت بھارت کا دورہ کرتی ہے تو بھارت متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں اس طرح کی 'فالس فلیگ' کارروائیاں کر کے الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے۔
امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے بھی یہ کہا گیا ہے کہ وہ دونوں جوہری ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ دنوں میں فون پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت کی ہے۔
بھارت کے قوم پرست اور ہندوتوا کے کٹر حامی ہندوؤں کے نمائندہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی زور دیتے ہوئے اس واقعے کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا عندیہ دیا ہے۔
جبکہ جے شنکر نے مارکو روبیو سے کہا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
غیر معممولی مسلم اکثریت کی حامل ریاست جموں و کشمیر میں 1989 سے بھارت سے آزادی اور علیحدگی کی تحریک جاری ہے۔ جس سے نمٹنے کے لیے بھارت نے 36 سال سے اس متنازعہ ریاست میں 6 ، 7 لاکھ کے قریب اپنے سیکیورٹی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ جن میں غالب تعداد بھارتی فوجیوں کی شامل ہے۔